ختم نبوتﷺ کورس” سبق نمبر 7″

سبق نمبر 7

0

“ختم نبوتﷺ کورس”

 ( مفتی سعد کامران )

سبق نمبر 7

“قرآن مجید کی 2 آیات پر اجرائے نبوت کے موضوع پر قادیانی شبہات اور ان کے علمی تحقیقی جوابات”

“آیت نمبر 1”

قادیانی قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت سے باطل استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبوت حضورﷺ پر ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ جاری ہے اور قیامت تک نئے نبی آسکتے ہیں۔ 
آیئے پہلے آیت اور اس کا ترجمہ دیکھتے ہیں اور پھر قادیانیوں کے باطل استدلال کا علمی رد کرتے ہیں۔ 
آیت نمبر 1

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ ۙ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ۔

ترجمہ
اے آدمؑ  کے بیٹے اور بیٹیو! اگر تمہارے پاس تم میں سے ہی کچھ پیغمبر آیئں جو تمہیں میری آیات پڑھ کر سنائیں،تو جو لوگ تقوی اختیار کر لیں گے اور اپنی اصلاح کر لیں گے،ان پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ 
(سورۃ  الاعراف آیت نمبر 35)

قادیانیوں کا باطل استدلال 

قادیانی اس آیت سے باطل استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس آیت میں تمام بنی آدمؑ کو مضارع کے صیغے کے ساتھ خطاب کیا گیاہے۔ 
اس لئے اس آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ قیامت تک بنی آدم میں سے رسول آتے رہیں گے۔ 

قادیانیوں کے باطل استدلال کا جواب 

قادیانیوں کے اس باطل استدلال کے بہت سے جوابات ہیں،ملاحظہ فرمائیں۔ 
جواب نمبر 1 
قرآن مجید کے اسلوب سے یہ بات ثابت ہے کہ پورے قرآن میں جہاں بھی امت محمدیہؑ کو اللہ تعالٰی نے خطاب کیا ہے تو وہاں 2 طریقوں سے خطاب کیا ہے۔ 
1)امت محمدیہؑ کو اجابت کے لئے “یاایھاالذین آمنو” کے الفاظ سے خطاب کیا گیا ہے۔ 
2)امت محمدیہؑ کو دعوت کے لئے “یاایھاالناس” کے الفاظ سے خطاب کیا گیا ہے۔ 
پورے قرآن میں امت محمدیہؑ کو “یبنی آدم” کے الفاظ سے خطاب نہیں کیا گیا۔ 
پس ثابت ہوا کہ اس آیت میں امت محمدیہؑ کو خطاب نہیں کیا گیا۔بلکہ امت محمدیہؑ سے پہلے تمام اولاد آدمؑ کو جو خطاب کیا گیا تھا اس آیت میں اس کا ذکر ہے۔ 

ایک ضروری وضاحت 

یبنی آدم کے الفاظ سے جہاں بھی اولاد آدمؑ کو خطاب کیا گیا ہے وہاں اگر کوئی احکام نازل کئے جانے کا ذکر ہوتو اگر وہ احکام امت محمدیہؑ میں منسوخ نہ کئے گئے ہوں یا کوئی ایسا حکم ہو جو شریعت محمدیہؑ کو اس حکم کے پورا کرنے سے مانع نہ ہوتو امت محمدیہؑ بھی اس حکم میں شامل ہوتی ہے۔ 
جبکہ اس آیت میں جس بات کو ذکر کیا گیا ہے وہ سابقہ امتوں کے لئے اس لئے ہے کیونکہ قرآن و سنت کے مطابق آپﷺ کو آخری نبی قرار دیا گیا ہے۔اور آخری نبی کے آنے کے بعد نبوت جاری نہیں رہتی۔ 
قادیانی “یٰبَنِیۡۤ  اٰدَمَ” کے لفظ پر اعتراض کرتے ہوئے ایک اور آیت بھی پیش کرتے ہیں
“یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ” کہ اس آیت میں “یبنی آدم” کے لفظ سے خطاب کیا گیا ہے اور اس میں مسجد کا ذکر ہے اور مسجدیں امت محمدیہؑ کے ساتھ خاص ہیں۔ 
حالانکہ قادیانی علمی یتیموں کو یہ پتا نہیں کہ مسجد کا ذکر پہلی امتوں کے لئے بھی قرآن میں کیا گیا ہے۔ 
جیسا کہ اس آیت میں ذکر ہے۔ 

“قَالَ الَّذِیۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰۤی اَمۡرِہِمۡ  لَنَتَّخِذَنَّ  عَلَیۡہِمۡ  مَّسۡجِدًا”

 انہوں نے کہا کہ:ہم تو ان کے اوپر ایک مسجد ضرور بنائیں گے۔ 
(سورۃ  الکھف آیت نمبر 21)
جواب نمبر 2
اولاد بنی آدم میں ہندو، سکھ،عیسائی اور یہودی تمام شامل ہیں۔کیا ہندوؤں،سکھوں، عیسائیوں اور یہودیوں میں سے بھی رسول آسکتا ہے؟؟؟ 
اگر ان میں سے رسول نہیں آسکتا تو ان کو اس آیت کے عموم سے کس دلیل کے ساتھ قادیانی خارج کرتے ہیں؟؟؟ 
اس کے علاوہ اولاد بنی آدم میں عورتیں اور ہیجڑے بھی شامل ہیں۔ 
کیا عورتوں اور ہیجڑوں میں سے بھی رسول آسکتا ہے؟؟؟؟؟
اگر قادیانی اس کے جواب میں کہیں کہ عورتیں پہلے نبی نہیں بنی تو اب بھی نہیں بن سکتیں۔ 
اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح کوئی عورت نبی نہیں بنی اسی طرح پہلے کسی نبی کی اطاعت کرنے سے کوئی مرد بھی  نبی نہیں بنا۔
 اگر نبوت جاری ہے اور اطاعت سے کوئی انسان نبی بن سکتا ہے تو اطاعت سے عورت بھی نبی بن سکتی ہے۔ 
پس ثابت ہوا کہ اس آیت کی رو سے جس طرح عورت نبی نہیں بن سکتی اسی طرح کوئی مرد بھی نبی نہیں بن سکتا۔ 
جواب نمبر 3
اگر اس آیت “یٰبَنِیۡۤ  اٰدَمَ  اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ َ” سے رسولوں کے آنے کا وعدہ  ہے تو اس آیت “اما یاتینکم منی ھدی” سے صاحب شریعت رسولوں کے آنے کا وعدہ بھی ہے۔کیونکہ اس آیت میں وہی یاتینکم ہے جو “یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ” والی آیت میں ہے۔ 
لیکن قادیانی صاحب شریعت رسولوں کے آنے کے منکر ہیں پس جس طرح آیت “یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ  اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ” سے آپ قادیانی صاحب شریعت رسولوں کے آنے کے منکر ہیں اسی طرح اس آیت سے غیر تشریعی رسول بھی نہیں آسکتے۔ 
جواب نمبر 4
اس آیت “یٰبَنِیۡۤ  اٰدَمَ  اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ” میں لفظ “اِمَّا” ہے۔اور “اِمَّا” حرف شرط ہے۔ جس کا تحقق ضروری نہیں جس طرح مضارع کے لئے استمرار ضروری نہیں۔ 
جیسا کہ اس آیت سے وضاحت ہوتی ہے۔

“َاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الۡبَشَرِ اَحَدًا”

(سورہ مریم آیت 26)
ترجمہ = اگر لوگوں میں سے کسی کو آتا دیکھو 
اس آیت کا اگر قادیانی اصول کے مطابق ترجمہ کریں تو یوں بنے گا کہ مریمؑ قیامت تک آدمی کو دیکھتی رہیں گی۔ 
حالانکہ یہ ترجمہ قادیانی نہیں مانتے۔ 
پس جس طرح اس آیت کی رو سے مریمؑ قیامت تک کسی آدمی کو نہیں دیکھ سکتیں۔ 
اسی طرح اس آیت “یٰبَنِیۡۤ  اٰدَمَ  اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ” سے بھی حضورﷺ کے بعد قیامت تک  کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ 
جواب نمبر 5
اس آیت کا شان نزول قادیانیوں کے تسلیم کردہ مجدد امام سیوطیؒ نے یوں بیان کیا ہے۔ 
“ابی یسار سلمی سے روایت ہے کہ اللہ رب العزت نے سیدنا آدمؑ اور ان کی اولاد کو(اپنی قدرت و رحمت کی)مٹھی میں لیا اور فرمایا “یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ  اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ۔۔۔” پھر رسولوں پر نظر رحمت ڈالی تو فرمایا یایھاالرسل۔۔۔۔۔ 
پس ثابت ہوا کہ قادیانیوں کے تسلیم کر دہ مجدد کے نزدیک یہ آیت عالم ارواح کے واقعہ کی حکایت ہے۔ 
اس لئے اس آیت سے نبوت کا جاری رہنا کسی صورت بھی ثابت نہیں ہوتا۔ 
جواب نمبر 6
جس رکوع میں یہ آیت ذکر ہے اس میں اس آیت سے پہلے 3 دفعہ آدمؑ اور ان کی اولاد کو یبنی آدم کے الفاظ سے اللہ تعالٰی نے خطاب کیا ہے۔ 
اس لئے اگر سیاق و سباق کو بھی دیکھا جائے تو بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں اولین اولاد آدمؑ کے خطاب کو اللہ تعالٰی نے بیان فرمایا ہے۔ 
جواب نمبر 7
بالفرض محال اگر تسلیم کر بھی لیا جائے کہ اس آیت کی رو سے حضورﷺ کے بعد انسانوں میں سے رسول آسکتے ہیں تو مرزاقادیانی پھر بھی رسول ثابت نہیں ہوتا۔ 
کیونکہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ میں تو انسان  ہی نہیں۔
کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں 
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار 
(روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127)

خلاصہ کلام 

تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت سے بلکہ قرآن مجید کی کسی آیت سے بھی نبوت کا جاری ہونا ثابت نہیں ہوتا۔بلکہ اس آیت میں اولین اولاد آدمؑ سے اللہ تعالٰی کے خطاب کو بیان کیا گیا ہے۔ 

“دوسری آیت”

قادیانی قرآن مجید کی درج ذیل آیت سے باطل استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد بھی  نبوت جاری ہے اور قیامت تک نئے نبی اور رسول آسکتے ہیں۔ 
آیئے پہلے آیت اور اس کا ترجمہ دیکھتے ہیں۔ پھر قادیانیوں کے باطل استدلال کا علمی رد کرتے ہیں۔ 
آیت نمبر 2

“وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا”

ترجمہ 
اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے۔جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے۔یعنی انبیاء،صدیقین،شہداء اور صالحین۔اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔ 
(سورۃ  النساء آیت نمبر 69)

قادیانیوں کا باطل استدلال 

قادیانی اس آیت سے باطل استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے سے کوئی بھی انسان نبی ،صدیق، شہید اور صالح بن سکتا ہے۔یعنی یہ 4 درجے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے سے مل سکتے ہیں۔ 
قادیانیوں کے اس آیت سے کئے گئے باطل استدلال کے بہت سے جوابات ہیں۔ملاحظہ فرمائیں ۔ 
جواب نمبر 1
نبوت کسبی چیز نہیں ہے بلکہ وہبی چیز ہے۔ یعنی نبوت اپنی محنت کرنے،اطاعت کرنے اور ارادہ کرنے سے نہیں ملتی بلکہ اللہ تعالٰی جس کو عطا کریں اس کو ملتی ہے۔ 
جیسا کہ مندرجہ ذیل آیت میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے۔ 

“وَ اِذَا جَآءَتۡہُمۡ اٰیَۃٌ  قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ حَتّٰی نُؤۡتٰی مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ ؕ ۘ ؔ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ سَیُصِیۡبُ الَّذِیۡنَ اَجۡرَمُوۡا صَغَارٌ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ عَذَابٌ شَدِیۡدٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَمۡکُرُوۡنَ”

“اور جب ان (اہل مکہ) کے پاس (قرآن کی) کوئی آیت آتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ:ہم اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ اس جیسی چیز(نبوت)خود ہمیں نہ دے دی جائے جیسی اللہ کے پیغمبروں کو دی گئی تھی ۔(حالانکہ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری(نبوت) کس کو سپرد کرے۔جن لوگوں نے (اس قسم کی) مجرمانہ باتیں کی ہیں ان کو اپنی مکاریوں کے بدلے میں اللہ کے پاس جاکر ذلت اور سخت عذاب کا سامنا ہوگا۔”
(سورۃ الانعام، آیت نمبر 124)
جواب نمبر 2
کوئی بھی ذی شعور اور صاحب عقل آدمی اس آیت کا صرف ترجمہ پڑھ لے تو اسے خود پتہ چل جائے گا کہ اس آیت سے نبوت کے جاری ہونے کا قطعا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
 بلکہ یہ آیت اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرنے والوں کو یہ خوشخبری سنا رہی ہے کہ آپ قیامت کے بعد  نبیوں،صدیقوں ،شہدا اور صالحین کے ساتھ ہوں گے۔ 
جیسا کہ اس آیت کے آخری الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ یعنی نبی،صدیقین،شھدا اور صالحین بہترین ساتھی ہیں۔ 
پس ثابت ہوا کہ یہ آیت قیامت کی معیت کے بارے میں ہے۔ 
جواب نمبر 3
اس آیت کا شان نزول قادیانیوں کے تسلیم کردہ 10 صدی کے مجدد امام جلال الدین سیوطیؒ یوں لکھتے ہیں۔
پڑھئے اور سر دھنئے۔ 
“بعض صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ آپ جنت کے بلند و بالا مقامات پر ہوں گے اور ہم جنت کے نچلے درجات میں ہوں گے تو آپﷺ کی زیارت کیسے ہوگی؟؟؟ 
تو یہ آیت نازل ہوئی ۔ 

مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ۔۔۔۔۔۔۔ 

(تفسیر جلالین صفحہ 80)
یہاں رفاقت سے مراد جنت کی رفاقت ہے کہ انبیاء کرامؑ اگرچہ جنت کے بالاخانوں میں ہوں گے لیکن پھر بھی صحابہ کرام ؓ اور دوسرے نیک لوگ انبیاء کرامؑ کی زیارت سے فیض یاب ہوں گے۔ 
اس کے علاوہ مرزا قادیانی سے پہلے تقریبا تمام تفاسیر میں اس آیت کا یہی شان نزول لکھا ہے۔ 
لیجئے میرے حضورﷺ کی بیان کردہ تفسیر نے بھی بتا دیا کہ اس آیت میں معیت سے مراد جنت کی رفاقت ہے۔ 
جواب نمبر 4
اماں عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ 
“میں نے آپﷺ سے سنا کہ آپﷺ فرماتے تھے کہ ہر نبی کو مرض وفات میں اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں رہنا چاہتا ہے یا عالم آخرت میں۔ 
جس مرض میں آپﷺ کی وفات ہوئی اس مرض میں آپﷺ فرماتے تھے۔ 

“مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ”

یعنی ان نبیوں کے ساتھ جن پر تو نے انعام فرمایا۔
 اماں جان ؓ فرماتی ہیں کہ اس سے میں سمجھ گئی کہ آپﷺ کو دنیا اور آخرت میں سے ایک کا اختیار دیا جارہا ہے۔ 
(مشکوۃ،حدیث نمبر 5960،باب ہجرة الرسول الی المدینة وفاته)
اس روایت سے بھی ثابت ہوگیا کہ معیت سے مراد جنت کی رفاقت ہے۔ 
جواب نمبر 5
دو روایات اور ملاحظہ فرمائیں جن میں بھی معیت کا ذکر ہے لیکن اس معیت سے مراد جنت کی رفاقت ہے۔ 
حدیث نمبر 1

“عن معاذ عن رسول اللہﷺ:قال من قرء الف آیتہ فی سبیل اللہ کتب یوم القیامۃ مع النبیین والصدیقین والشھداء والصلحین”

حضرت معاذ ؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:
جو شخص ایک ہزار آیات روزانہ اللہ کی رضا کے لئےتلاوت کرے وہ قیامت کے دن نبیوں،  صدیقوں،شہدا اور صالحین کے ساتھ بہترین رفاقت میں ہوگا۔
(مسند احمد،حدیث نمبر 15696،مسند المکیین،حدیث معاذ بن انس جہنی ؓ )
حدیث نمبر 2

عن ابی سعید ؓ،عن النبی،قال التاجر الصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشھداء۔

حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ  نے فرمایا:
سچا امانت دار تاجر نبیوں،صدیقوں اور شھداء کے ساتھ ہوگا۔
(ترمذی،حدیث نمبر 1209،باب ما جاء فی التجار وتسمیة النبیﷺ)
اب قادیانی یہ بتایئں کہ کیا کوئی سچا تاجر یا 1000 آیات روزانہ پڑھنے والا نبی بن سکتا ہے؟؟؟؟ 
یقینا قادیانی یہی کہیں گے کہ سچا تاجر اور 1000 آیات روزانہ پڑھنے والا قیامت کے دن نبیوں،صدیقوں،شھداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ 
جس طرح سچا تاجر اور 1000 آیات روزانہ پڑھنے والا نبی نہیں بن سکتا بلکہ قیامت کے دن نبیوں، صدیقوں، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا ۔  اسی طرح اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والا بھی نبی یا رسول نہیں بن سکتا بلکہ قیامت کے دن وہ نبیوں،  صدیقوں،  شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ 
جواب نمبر 6
مندرجہ بالا آیت میں قیامت کے دن معیت کا ذکر ہے۔جن آیات میں دنیا میں درجات ملنے کا ذکر ہے ان میں سے کسی ایک آیت میں بھی نبوت ملنے کا ذکر نہیں ہے۔ 
مثلا سورۃ العنکبوت میں اللہ فرماتے ہیں۔

“وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدۡخِلَنَّہُمۡ  فِی الصّٰلِحِیۡنَ”

وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے وہ نیک لوگوں میں داخل ہوں گے۔
(سورۃ العنکبوت آیت نمبر 9)
اس کے علاوہ ایک اور جگہ پر اللہ تعالٰی فرماتے ہیں ۔ 

“وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ  وَ رُسُلِہٖۤ  اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصِّدِّیۡقُوۡنَ”

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں وہ اللہ کے نزدیک صدیق اور شھید ہیں۔
(سورۃ الحدید آیت نمبر 19)
ان آیات میں جو لوگ مخاطب ہیں اور ان کو جو درجات ملنے کا ذکر ہے ان میں نبوت ملنے کا دور دور تک بھی ذکر نہیں ہے۔اور صحابہ کرام ؓ سے زیادہ کامل ایمان والا امت میں کون ہوسکتا ہے؟؟؟ 
اگر صحابہ کرام ؓ جیسے کامل ایمان والے لوگوں کو نبوت نہیں مل سکتی تو پھر امت میں کسی کو کیسے نبوت مل سکتی ہے جبکہ اللہ نے نبوت کا دروازہ بھی بند کردیا ہوا ہے۔ 

خلاصہ

پس ثابت ہوا کہ قادیانیوں کا مندرجہ بالا آیت پر استدلال باطل ہے کیونکہ اس آیت میں قیامت کے بعد نیک لوگوں کو جو معیت ملے گی اس کا ذکر ہے۔ کہ نیک لوگ انبیاء،صدیقین،  شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.