“ختم نبوتﷺ کورس” “سبق نمبر 5”

"سبق نمبر 5"

0

“ختم نبوتﷺ کورس”

( مفتی سعد کامران )

 

“سبق نمبر 5”

“عقیدہ ختم نبوتﷺ پر قادیانی دھوکہ اور ظلی بروزی نبوت کی بحث”

مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ نبوت کی 2 قسمیں ہیں۔ 
1) نبی 
2) رسول 

“نبی”

نبی اس کو کہتے ہیں جو پرانے نبی کی کتاب اور شریعت پر عمل کرے۔ 

“رسول”

رسول اس نبی کو کہتے ہیں جو نئی کتاب اور نئی شریعت لے کر آئے۔ 
کچھی کبھار قادیانی کہتے ہیں کہ نبی اور رسول کی جو تعریف آپ کرتے ہیں وہ درست نہیں ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ نبی اور رسول کا یہی فرق جو ہم بیان کرتے ہیں٬وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے نے بھی لکھا ہے۔ملاحظہ فرمایئں:
“دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی گزرے ہیں جن میں شریعت لانے والے رسول صرف 315 تھے۔”
(ختم نبوت کی حقیقت صفحہ 106)
ختم نبوت پر ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ نبیوں اور رسولوں کی تعداد حضورﷺ پر مکمل ہوچکی ہے۔اب تاقیامت کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ 
جبکہ قادیانی نبوت کی 3 اقسام مانتے ہیں۔ 
1) تشریعی نبوت 
2) غیر تشریعی نبوت 
3) ظلی نبوت 

“تشریعی نبوت”

قادیانی کہتے ہیں کہ نئی شریعت کے ساتھ جو نبوت ہے اس کو تشریعی نبوت کہتے ہیں۔ 

“غیر تشریعی نبوت”

قادیانی کہتے ہیں کہ بغیر شریعت کے ساتھ جو نبوت ملتی ہے اس کو غیر تشریعی نبی کہتے ہیں۔ 

“ظلی نبوت”

قادیانی کہتے ہیں کہ حضورﷺ کی اتباع سے جو نبوت ملتی ہے اس کو ظلی نبوت کہتے ہیں۔ 
قادیانیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ تشریعی اور غیر تشریعی نبیوں کی تعداد تو حضورﷺ کے تشریف لانے سے مکمل ہوچکی ہے جبکہ ظلی نبوت کا دروازہ تاقیامت کھلا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ظلی نبوت صرف مرزاقادیانی کو ملی ہے۔ 
(کلمتہ الفصل صفحہ 112)

“قادیانیوں سے ایک سوال”

 دعوی جب خاص ہوتو دلیل بھی خاص ہوتی ہے۔آپ قادیانیوں نے نبوت کی تیسری قسم یعنی ظلی نبوت کو ایک مستقل نبوت قرار دیا ہے۔ 
ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ سب سے پہلے تو ہمیں قرآن اور حدیث سے وہ دلائل بتایئں جن سے پتہ چلے کہ شریعت والی نبوت بھی بند ہے اور بغیر شریعت کے نبوت بھی بند ہے۔ 
اور سب سے آخر میں ہمیں قرآن اور حدیث سے وہ دلائل بتایئں جہاں لکھا ہوکہ شریعت اور بغیر شریعت کے نبوت کا دروازہ تو بند ہے لیکن ظلی نبوت کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ 
قیامت تو آسکتی ہے لیکن قادیانی قیامت کی صبح تک کوئی قرآن کی آیت یا کوئی ایک حدیث بھی ایسی پیش نہیں کر سکتے جہاں یہ لکھا ہوکہ حضورﷺ کے آنے سے شریعت والے اور بغیر شریعت والے نبیوں کی تعداد تو مکمل ہوچکی ہے لیکن ظلی نبی تاقیامت آسکتے ہیں۔ 
قادیانی قیامت تک اپنے من گھڑت دعوی پر دلیل نہیں پیش کر سکتے۔ 
ھاتو برھانکم ان کنتم صدقین

“ظلی نبوت”

قادیانی کہتے ہیں کہ ظل سائے کو کہتے ہیں اور مرزاقادیانی نے حضورﷺ کی اتنی کامل اتباع کی کہ مرزاقادیانی نعوذ باللہ حضورﷺ کا ظل بن گیا۔اور ظلی نبی بن گیا۔لیکن یہ قادیانیوں کا  دھوکہ ہے۔ قادیانی دراصل مرزاقادیانی کو نعوذباللہ حضورﷺ جیسا بلکہ نعوذباللہ حضورﷺ سے بڑھ کر درجہ دیتے ہیں۔ 
آیئے قارئین مرزاقادیانی کی کی ایک تحریر کا جائزہ لیتے ہیں جہاں مرزاقادیانی ظل اور اصل کی وضاحت کر رہا ہے۔ 
مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 
“خدا ایک اور محمدﷺ اس کا نبی ہے۔اور وہ خاتم الانبیاء ہے۔اور سب سے بڑھ کر ہے۔اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں۔مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمدیت کی چادر پہنائی گئی۔ 
جیسا کہ تم آیئنہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہوسکتے بلکہ ایک ہی ہو۔ اگرچہ بظاہر دو نظر آتے ہیں۔صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔” 
(کشتی نوح صفحہ 15 مندرجہ  روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 16)
معزز قارئین مرزاقادیانی کا کفر یہاں ننگا ناچ رہا ہے مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ میں ظلی طور پر محمد ہوں اس کا مطلب ہے کہ نعوذباللہ اگر آیئنے میں حضورﷺ کو دیکھا جائے تو وہ مرزاقادیانی نظر آئیں گے۔اور جو مرزاقادیانی آیئنے میں نظر آرہا ہے وہ مرزاقادیانی نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ حضورﷺ ہیں۔ 
اگر دونوں ایک ہی ہیں تو پھر ظل اور بروز کی ڈھکوسلہ بازی کیوں کرتے ہو؟؟؟ یہ تو صرف لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اور کچھ نہیں۔ 
اب مرزاقادیانی کے ظل اور بروز کے فلسفے کو مرزاقادیانی کی ہی تحریرات سے باطل ثابت کرتے ہیں۔ 

1) مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 

“نقطہ محمدیہ ایسا ہی ظل الوہیت کی وجہ سے مرتبہ الہیہ سے اس کو ایسی ہی مشابہت ہے جیسے آیئنے کے عکس کو اپنی اصل سے ہوتی ہے۔اور امہات صفات الہیہ یعنی حیات،علم،ارادہ، قدرت، سمع ،بصر کلام مع اپنے جمیع فروع کےاتم و اکمل طور پر اس(آنحضرتﷺ) میں انعکاس پذیر ہیں۔”
(سرمہ چشم آریہ صفحہ 224 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 224)

2) مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 

“حضرت عمر ؓ کا وجود ظلی طور پر گویا آنجنابﷺ کا ہی وجود تھا۔”
(ایام الصلح صفحہ 35 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 265)

3) مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 

“خلیفہ دراصل رسول کا ظل ہوتا ہے۔”
(شہادة القرآن صفحہ 57 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 353)
مرزاقادیانی کے اگر ظل اور بروز کے فلسفے کو تسلیم کرلیں تو پھر حضورﷺ کو بھی خدا تسلیم کرنا پڑے گا۔اور حضرت عمر ؓ اور تمام خلفائے راشدین ؓ کو رسول تسلیم کرنا پڑے گا۔ 
کیا کوئی قادیانی ایسا ایمان رکھتا ہے کہ حضورﷺ خدا ہیں اور حضرت عمر ؓ اور تمام خلفائے راشدین ؓ رسول ہیں؟؟
اگر مرزاقادیانی کے فلسفے کے مطابق حضورﷺ خدا کے ظل ہوکر بھی خدا نہیں ہوسکتے اور حضرت عمر ؓ اور دیگر خلفاء رسول اللہﷺ کے ظل ہوکر بھی رسول نہیں ہوسکتے تو مرزاقادیانی کیسے نبی اور رسول ہوسکتا ہے؟؟ 
ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ ظلی اور بروزی نبوت کی اصطلاح صرف لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ہے۔ حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ 

“قادیانیوں کے نزدیک معیار نبوت”

نبوت کا معیار ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔ 
حضرت ابو سفیان ؓ زمانہ جاہلیت میں تجارتی سفر پرروم گئے۔اور قیصر روم نے انہیں  اپنے دربار میں بلاکر سوال پوچھے جن میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ جنہوں نے نبوت کا دعوی کیا ہے ان کا خاندان کیسا ہے؟؟ 
حضرت ابوسفیان ؓ نے جواب دیا تھا کہ وہ عالی نسب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ 
قیصر روم نے اس پر یوں تبصرہ کیا تھا کہ انبیاء عالی نسب قوموں سے ہی مبعوث کئے جاتے ہیں۔ 
(بخاری:حدیث نمبر 7 ، باب کیف جانب کان بدؤالوحی الی رسول اللہﷺ)
نبی کا عالی نسب خاندان سے مبعوث ہونا ایسی بات ہےجس پر کافروں کو بھی اتفاق ہے لیکن مرزا قادیانی جیسے بدترین کافر کے نزدیک چور ،زانی ، بدکار ،ذلیل و کمینے بھی نبی ہوسکتا ہے۔
مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
“ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے۔اور ان کے پائخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے۔ اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہوکر اس کی رسوائی ہوچکی ہے۔اور چند سال جیل خانہ میں  قید بھی رہ چکا ہے۔ 
اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں۔اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ 
اب خدا تعالٰی کی قدرت پر خیال کرکے ممکن توہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہوکر مسلمان ہوجائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالٰی کا ایسا فضل اس پرہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے۔اور اسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لےکر آوے۔ اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کرے گا خدا اسے جہنم میں ڈالے گا۔لیکن باوجود اس امکان کے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔”
(تریاق القلوب صفحہ 67,68 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 280)

Leave A Reply

Your email address will not be published.