ختم نبوتﷺ کورس” سبق نمبر 3″

سبق نمبر 3

0

“ختم نبوتﷺ کورس”

 ( مفتی سعد کامران )

سبق نمبر 3

“عقیدہ ختم نبوت ازروئے احادیث اور عقیدہ ختم نبوت پر قادیانی عقیدے کا جائزہ”

ویسے تو عقیدہ ختم نبوتﷺ تقریبا 210 سے زائد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے لیکن اس سبق میں ہم عقیدہ ختم نبوتﷺ پر 10 احادیث مبارکہ پیش کریں گے۔ 
حدیث نمبر1

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ،أَنَّ رَسُولَ اللهِﷺ قَالَ:

مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ: هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ۔

حضرت ابوہریرة ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
“میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔لوگ اس کے گرد گھومنے اور عش عش کرنے لگے۔اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئی۔
آپﷺ نے فرمایا:
میں وہی اینٹ ہوں اور نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔”
(مسلم:حدیث نمبر 5961، باب ذکر کونهﷺ خاتم النبیین) 
حدیث نمبر 2

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ،أَنَّ رَسُولَ اللهِﷺ قَالَ:

فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ۔

 حضرت ابوہریرة ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
مجھے 6 چیزوں پر انبیاء کرام علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ۔ 
1)مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے۔ 
2)رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی۔ 
3)مال غنیمت میرے لئےحلال کردیا گیا۔ 
4)روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنادیاگیا۔ 
5)مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا۔ 
6)مجھ پر تمام نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔
( مسلم:حدیث نمبر 1167،کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ) 
حدیث نمبر 3

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي»

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے علی ؓ سے فرمایا:
“تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون ؑ کو موسی ؑ سے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”
(مسلم:حدیث نمبر6217، باب من فضائل علی ؓ بن ابی طالب) 
حدیث نمبر 4

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،عَنِ النَّبِيِّﷺ،قَالَ:‏‏‏‏كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ۔

حضرت ابوہریرة ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
 “بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیاء ؑ کرتے تھے جب کسی نبی ؑ کی وفات ہوجاتی تھا تو دوسرا نبی اس کی جگہ آجاتا تھا۔لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہونگے۔”
(بخاری:حدیث نمبر  3455، باب ذکر عن بنی اسرائیل) 
حدیث نمبر 5

عَنْ ثَوْبَانَ ؓ،‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ:‏‏‏‏وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي۔

حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
“میری امت میں 30 جھوٹے پیدا ہوں گے ان میں سے ہر ایک کہے گا کہ میں نبی ہوں۔حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔میرے بعد کوئی نبی نہیں۔” 
(ترمذی حدیث نمبر 2219، باب ما جاء لا تقوم الساعة  حتی یخرج کذابون) 
حدیث نمبر 6

عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ؓ، قَالَ :قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ:‏‏‏‏إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ ۔

حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ  نے فرمایا:
“رسالت و نبوت ختم ہوچکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی۔”
(ترمذی:حدیث نمبر 2272،باب ذهبت النبوة وبقيت المبشرات) 
حدیث نمبر 7

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “”نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ۔

حضرت ابوہریرة ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
“ہم سب کے بعد آئے اور قیامت کے دن سب سے آگے ہونگے۔صرف اتنا ہوا کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی۔”
(بخاری:حدیث نمبر 896،باب ھل علی من لا یشھد الجمعة غسل من النساء والصبیان) 
حدیث نمبر 8

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ:‏‏‏‏ لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ۔

حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
“اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ؓ  بن خطاب ہوتے۔”
(ترمذی: حدیث نمبر 3686، مناقب ابی حفص عمر ؓ  بن الخطاب) 
حدیث نمبر 9

“عن جبیر بن مطعم قال سمعت النبیﷺ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ان لی اسماء، وانا محمد،  وانا احمد،وانا الماحی الذی یمحواللہ بی الکفر، وانا الحاشر الذی یحشرالناس علی قدمی، وانا العاقب الذی لیس بعدہ نبی”   

حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
میرے چند نام ہیں۔میں محمد ہوں۔میں احمد ہوں۔میں ماحی یعنی مٹانے والا ہوں کہ میرے ذریعے اللہ کفر کو مٹائیں گے۔اور میں حاشر یعنی جمع کرنے والا ہوں۔کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جایئں۔اور میں عاقب ہوں یعنی سب کے بعد آنے والا ہوں۔ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ 
(مشکوٰۃ:حدیث نمبر 5776،باب اسماء النبیﷺ وصفاته) 
حدیث نمبر 10

عَنْ سَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ:‏‏‏‏        

  “”بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ هَكَذَا”

حضرت سھل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے۔ 
(یعنی جس طرح شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے درمیان کوئی اور انگلی نہیں اسی طرح  میرے اور قیامت کے درمیان کوئی اور ایسا انسان نہیں آئے گا جس کو نبوت دی جائے گی)
(بخاری:حدیث نمبر 6503،باب قول النبیﷺ بعثت انا والساعة کھاتین)
ان دس احادیث مبارکہ سے بھی یہ بات اظہر من الشمس ہوگئ کہ نبیوں کی تعداد حضورﷺ کے تشریف لانے سے پوری ہوگئی ہے اور حضورﷺ کے بعد نبیوں کی تعداد میں کسی ایک نبی کا اضافہ بھی نہیں ہوگا۔ 

“عقیدہ ختم نبوت اور قادیانی دھوکہ” 

عقیدہ ختم نبوت پر ہمارا یعنی مسلمانوں کا اور قادیانیوں کا اصل اختلاف یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ نبیوں کی تعداد حضورﷺ تشریف لانے سے مکمل ہوئی۔
جبکہ قادیانی کہتے ہیں کہ نبیوں کی تعداد نعوذ باللہ مرزا غلام احمد قادیانی کے آنے سے مکمل ہوئی۔ہم حضورﷺ کو نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ مانتے ہیں جبکہ قادیانی نعوذباللہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ مانتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا جبکہ قادیانی کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ 
ذیل میں چند حوالے پیش خدمت ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت کی عمارت کی آخری اینٹ اور آخری نبی سمجھتے ہیں۔ 
حوالہ نمبر 1
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ
“مسیح موعود کے کئی نام ہیں منجملہ ان میں سے ایک نام خاتم الخلفاء ہے یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر میں آنے والا ہے۔” 
(چشمہ معرفت صفحہ 318 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 333) 
حوالہ نمبر 2 
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ 
“پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بناء کو کمال تک پہنچا دے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں”
(خطبہ الہامیہ صفحہ 112 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 178) 
حوالہ نمبر 3 
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ 
“وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی نبوت مجھے عطاکی گئی۔اور اس نبوت کے مقابل پر تمام دنیا اب بےدست و پا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔ 
ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانے کے لئے مقدر تھا سو وہ ظاہر ہوگیا۔ اب بجز اس کھڑکی کے کوئی اور کھڑکی نبوت کے چشمہ  سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں رہی”
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 215) 
حوالہ نمبر 4
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ 
 “جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء،قطب،ابدال وغیرہ اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے صرف میں ہی محسوس کیا گیا ہوں۔اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔”
(حقیقة الوحی صفحہ 391 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406) 
حوالہ نمبر 5 
مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ 
“ہلاک ہوگئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہیں کیا۔مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی راہوں میں سب سے آخری راہ ہوں۔اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے”
(کشتی نوح صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 61)

Leave A Reply

Your email address will not be published.