ختم نبوتﷺ کورس سبق نمبر 22

سبق نمبر 22

0

ختم نبوتﷺ کورس

  ( مفتی سعد کامران )

 

سبق نمبر 22

“امام مہدی اور مرزا قادیانی کا تقابلی جائزہ”

جائزہ نمبر 1

 امام مہدی کے بارے میں درج ذیل باتیں ہمیں احادیث سے معلوم ہویئں۔اب اسی کے اوپر مرزا صاحب کو پرکھ لیتے ہیں۔ 
1) امام مہدی کا نام محمد ہوگا۔ جبکہ مرزا صاحب کا نام غلام احمد تھا۔ 
2) امام مہدی کے والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ جبکہ مرزا صاحب کے والد کا نام غلام مرتضی تھا۔ 
3) امام مہدی سادات میں سے ہوں گے ۔ جبکہ مرزا صاحب کا خاندان “مغل” تھا۔ 
4) امام مہدی بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوں گے جب ان کو پہچان کر ان کی بیعت کی جائے گی۔جبکہ مرزا صاحب ساری زندگی مکہ مکرمہ نہیں جاسکے۔ 
5) امام مہدی حاکم(بادشاہ) ہوں گے ۔ جبکہ مرزا صاحب غلام تھے۔ 
6) امام مہدی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔جبکہ مرزا صاحب کو تو حکومت ہی نصیب نہیں ہوئی۔
7) امام مہدی کی حکومت 7 یا 9 سال ہوگی۔جبکہ مرزا صاحب کو تو حکومت ہی نصیب نہیں ہوئی۔
8) امام مہدی کے وقت میں سیدنا عیسیؑ علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوگا۔جبکہ مرزا صاحب کے دور میں عیسیؑ آسمان سے نازل نہیں ہوئے۔ 
جب مرزا صاحب سے اس بارے میں سوال کیا گیا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ آپ امام مہدی ہیں،حالانکہ جس مہدی کے آنے کا حدیث میں ذکر ملتا ہے۔ان کا نام محمد ہوگا،ان کے والد کا نام عبداللہ ہوگا،وہ سادات میں سے ہوں گے جبکہ آپ کے اندر تو اس بارے میں کوئی نشانی نہیں پائی جاتی۔تو مرزا صاحب نے جو جواب دیا وہ پڑھیں۔
“میرا یہ دعوی نہیں کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمة ومن عترتی وغیرہ ہے۔ بلکہ میرا دعوی تو مسیح موعود ہونے کا ہے۔ اور مسیح موعود کے لئے کسی محدث کا قول نہیں کہ وہ بنی فاطمہ وغیرہ سے ہوگا۔ہاں ساتھ اس کے جیسا کہ تمام محدثین کہتے ہیں میں بھی کہتا ہوں کہ مہدی موعود کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں تمام مجروح اور مخدوش ہیں۔اور ایک بھی ان میں سے صحیح نہیں۔اور جس قدر افترا ان حدیثوں میں ہوا ہے کسی اور حدیث میں ایسا افترا نہیں ہوا۔”
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 185 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 356)
لیجیے اس جائزے اور مرزا صاحب کی تشریح سے پتہ چلا کہ جس امام مہدی کے قرب قیامت آنے کی خبر احادیث میں دی گئی ہے۔ مرزا صاحب کا دعوی اس مہدی ہونے کا نہیں ہے۔پتہ چلا کہ مرزا صاحب اپنے دعوی مہدویت میں احادیث کی روشنی سے کذاب ہیں۔ 

جائزہ نمبر 2

مرزا صاحب ایک اور جگہ قلابازی کھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 
“اگر مجھے قبول نہیں کرتے تو یوں سمجھ لو کہ تمہاری حدیثوں میں لکھا ہے کہ مہدی موعود خلق اور خلق میں ہمرنگ آنحضرتﷺ ہوگا۔اور اس کا اسم آنجناب کے اسم سے مطابق ہوگا۔یعنی اس کا نام بھی محمد اور احمد ہوگا۔اور اس کے اہل بیت میں سے ہوگا۔” 
اس کے حاشیے میں مرزا جی لکھتے ہیں کہ
“یہ بات میرے اجداد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک دادی ہماری شریف خاندان سادات سے اور بنی فاطمہ میں سے تھیں۔اس کی تصدیق آنحضرتﷺ نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا کہ “سلمان منااھل البیت علی مشرب الحسن” میرا نام سلمان رکھا یعنی دو سلم۔ اور سلم عربی میں صلح کو کہتے ہیں۔یعنی مقدر ہے کہ دو صلح میرے ہاتھ پر ہوں گی۔ایک اندرونی کہ جو اندرونی بغض اور شحنا کو دور کرے گی۔دوسری بیرونی کہ جو بیرونی عداوت کے وجوہ کو پامال کر کے اور اسلام کی عظمت دکھا کر غیر مذہب والوں کو اسلام کی طرف جھکادے گی۔معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جو سلمان آیا ہے۔ اس سے بھی میں مراد ہوں۔ورنہ اس سلمان پر دو صلح کی پیشگوئی صادق نہیں آتی۔اور میں خدا سے وحی پاکر کہتا ہوں کہ میں بنی فارس میں سے ہوں۔اور بموجب اس حدیث کے جو کنزالعمال میں درج ہے۔بنی فارس بھی بنی اسرائیل اور اہل بیت میں سے ہیں۔اور حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں  اپنی ران پرمیرا سر رکھا۔اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔چنانچہ یہ کشف براہین احمدیہ میں موجود ہے۔”
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 212،213)
مرزا صاحب اس جگہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ  تمہاری بات مان کر اگر یہ کہا جائے کہ امام مہدی کا نام محمد ہوگا اور وہ سادات میں سے ہوگا۔تو پھر بھی میں مہدی ہوں کیونکہ میری ایک دادی سادات میں سے تھیں۔اور حضرت فاطمہ ؓ نے مجھے خواب میں اپنا بیٹا کہا ہے۔ 
ماشاء اللہ کیا کہنے کہ جب صاف پتہ چلتا ہے کہ مرزا صاحب مہدی کی  بتائی گئی کسی ایک نشانی پر پورے نہیں اترتے تو کس طرح کھینچ تان کر اپنے آپ کو سید ثابت کر دیا حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ نسب ماں سے نہیں بلکہ باپ سے چلتا ہے۔ 
اگر یوں کہا جائے کہ سادات بھی تو حضرت فاطمہ ؓ کی اولاد کو کہا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ صرف حضرت فاطمہ ؓ کی اولاد کو سادات نہیں کہا جاتا بلکہ بنی ہاشم تمام سادات میں داخل ہیں۔جن میں حضرت علی ؓ ،حضرت عباس ؓ،حضرت عقیل ؓ اور حضرت جعفر ؓ کی اولاد شامل ہیں۔ 
اب اگر مرزا جی کو بالفرض سادات میں سے تسلیم کر بھی لیا جائے تو مرزا صاحب پھر بھی مہدی ثابت نہیں ہوتے کیونکہ مرزا صاحب کا نام غلام احمد تھا اور مہدی کا نام محمد ہوگا۔جیسا کہ خود بھی مرزا صاحب نے تسلیم کیا ہے۔ 
لیجئے اس جائزے سے  ثابت ہوا کہ مرزا صاحب نے جھوٹ کا سہارا لے کر جو مہدی بننے کی ناکام کوشش کی ہے مرزا صاحب اس میں بھی ناکام رہے کیونکہ مرزا صاحب نا تو سید ہیں اور ہی مرزا صاحب کا نام محمد ہے۔ اور نہ ہی والد کا نام عبداللہ ہے۔اور نہ ہی مرزا صاحب کبھی مکہ مکرمہ جاسکے ہیں۔ 
پہلے جائزے کے مطابق مرزا صاحب اس امام مہدی ہونے سے انکاری تھے جن کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔اور دوسرے جائزے کے مطابق مرزا صاحب اسی امام مہدی ہونے کے دعوے دار ہیں جن کا ذکر احادیث میں آیا ہے۔ 
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کی کون سی بات سچ تسلیم کی جائے؟؟؟
اور قانون یہ ہے کہ نبی جھوٹ نہیں بولتا اور جھوٹا شخص نبی نہیں ہوسکتا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.