ختم نبوتﷺ کورس”سبق نمبر 6″

سبق نمبر 6

0

“ختم نبوتﷺ کورس”

 ( مفتی سعد کامران )

 

سبق نمبر 6

“قادیانیوں کے عقیدہ ظل و بروز کا علمی تحقیقی جائزہ”

مرزاقادیانی نے نئے عقیدہ ظل اور بروز کی بنیاد رکھی۔دراصل مرزاقادیانی نے عقیدہ ظل اور بروز ہندوؤں کے عقیدہ حلول اور تناسخ سے چوری کیا۔ قادیانیوں کے عقیدہ ظل اور بروز کو سمجھنے سے پہلے ہندوؤں کا عقیدہ حلول اور تناسخ سمجھنا ضروری ہے۔ 

“ہندوؤں کا عقیدہ تناسخ و حلول”

ہندوؤں کا عقیدہ تناسخ اور حلول کا خلاصہ یہ ہے کہ جب بندہ ایک دفعہ مرجاتا ہے تو اس کی روح  دوسری دفعہ کسی میں حلول کر جاتی ہے اور اسی انسان  کا دوسرا جنم ہوجاتا ہے۔جو پہلے مرچکا ہوتا ہے۔ 
لیکن ہندوؤں کے اس عقیدے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب کوئی انسان دوسری دفعہ جنم لے لیتا ہے تو وہ دوسری دفعہ جنم لے لینے کے بعد پہلے جنم کے والدین کو اپنا والدین نہیں کہ سکتا۔اور پہلے جنم کی بیوی کو اپنی بیوی نہیں کہ سکتا۔اور پہلے جنم کے بچوں کو اپنا بچہ نہیں کہ سکتا۔اسی طرح جس زمین و جائیداد کا پہلے جنم میں وارث اور مالک ہوتا ہے۔ دوسرے جنم میں اس زمین و جائیداد کا وارث اور مالک نہیں کہلا سکتا۔ 

“مرزاقادیانی کا عقیدہ ظل اور بروز”

مرزاقادیانی نے عقیدہ ظل اور بروز کے بارے میں لکھا ہے کہ 
“اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آیئنہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہوگیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر۔ 
پس باوجود اس شخص کے دعوی نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا ۔پھر بھی سیدنا محمدﷺ خاتم النبیین ہی رہا۔کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمدﷺ  کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔”
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 209)
ایک اور جگہ مرزاقادیانی نے ظل اور بروز کی مزید وضاحت کی ہے۔ 
مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 
“خدا ایک اور محمدﷺ اس کا نبی ہے۔اور وہ خاتم الانبیاء ہے۔اور سب سے بڑھ کر ہے۔اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں۔مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمدیت کی چادر پہنائی گئی۔جیسا کہ تم آیئنہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہوسکتے بلکہ ایک ہی ہو۔ اگرچہ بظاہر دو نظر آتے ہیں۔صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔” 
(کشتی نوح صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 16)
مرزاقادیانی کی ان تحریرات سے پتہ چلا کہ جو شخص حضورﷺ کی کامل اتباع کرے گا اسے نبوت مل جائے گی۔ 
مرزاقادیانی کے اس عقیدے کے باطل ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ملاحظہ فرمائیں۔ 
وجہ نمبر 1
 مرزا قادیانی اور قادیانی جماعت یہ کہتی ہے کہ اگر حضورﷺ کی کامل اتباع کی جائے تو نبوت ملتی ہے۔ تو ان کا یہ کہنا ہی کفر ہے۔
 کیونکہ نبوت کسبی چیز نہیں ہے بلکہ وہبی چیز ہے۔ یعنی نبوت اپنی محنت کرنے اور ارادہ کرنے سے نہیں ملتی بلکہ اللہ تعالٰی جس کو عطا کریں اس کو ملتی ہے۔جیسا کہ مندرجہ ذیل آیت میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے۔ 

“وَ اِذَا جَآءَتۡہُمۡ اٰیَۃٌ  قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ حَتّٰی نُؤۡتٰی مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ ؕ ۘ ؔ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ سَیُصِیۡبُ الَّذِیۡنَ اَجۡرَمُوۡا صَغَارٌ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ عَذَابٌ شَدِیۡدٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَمۡکُرُوۡنَ”

“اور جب ان (اہل مکہ) کے پاس (قرآن کی) کوئی آیت آتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ: ہم اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ اس جیسی چیز خود ہمیں نہ دے دی جائے جیسی اللہ کے پیغمبروں کو دی گئی تھی۔(حالانکہ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کس کو سپرد کرے۔جن لوگوں نے ( اس قسم کی ) مجرمانہ باتیں کی ہیں ان کو اپنی مکاریوں کے بدلے میں اللہ کے پاس جاکر ذلت اور سخت عذاب کا سامنا ہوگا۔”
(سورۃ الانعام آیت نمبر 124)
وجہ نمبر 2
قادیانی کہتے ہیں کہ ظل سائے کو کہتے ہیں اور مرزاقادیانی نے حضورﷺ کی اتنی کامل اتباع کی کہ مرزاقادیانی نعوذ باللہ حضورﷺ کا ظل بن گیا۔اور ظلی نبی بن گیا۔لیکن یہ قادیانیوں کا  دھوکہ ہے۔ قادیانی دراصل مرزاقادیانی کو نعوذباللہ حضورﷺ جیسا بلکہ نعوذباللہ حضورﷺ سے بڑھ کر درجہ دیتے ہیں۔ 
سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے کیا حضورﷺ کی اتنی کامل اتباع کی ہے یا ویسے ہی ڈھنڈورا پیٹا ہے کہ میں عاشق رسولﷺ ہوں۔ 
1)مرزاقادیانی نے حج نہیں کیا۔حالانکہ مرزا قادیانی پر حج فرض بھی تھا۔ 
2)مرزاقادیانی نے ہجرت نہیں کی۔ 
3)مرزاقادیانی نے جہاد بالسیف نہیں کیا۔بلکہ الٹا اس کو حرام کہا۔ 
4)مرزاقادیانی نے کبھی پیٹ پر پتھر نہیں باندھے۔ 
5)مرزاقادیانی نے کبھی بھی کسی چور کے ہاتھ نہیں کٹوائے۔حالانکہ مرزا قادیانی کے دور میں کتنی چوریاں ہوئیں۔بلکہ الٹا مرزا قادیانی نے لوگوں سے فراڈ کئے۔ 
6)مرزاقادیانی نے کسی زانی کو سنگسار نہیں کروایا۔حالانکہ ہندوستان کے قحبہ خانوں میں زنا ہوتا رہا۔بلکہ الٹا مرزا قادیانی کے پیروکاروں نے مرزاقادیانی اور اس کے خاندان پر زنا کے الزام لگائے۔
اگر مرزاقادیانی اور قادیانی جماعت نبوت ملنے کے لئے اطاعت کو ہی معیار بناتے ہیں تو مرزاقادیانی تو اس معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔ 
وجہ نمبر 3
مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 
“خدا ایک اور محمدﷺ اس کا نبی ہے۔اور وہ خاتم الانبیاء ہے۔اور سب سے بڑھ کر ہے۔اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں۔مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمدیت کی چادر پہنائی گئی۔جیسا کہ تم آیئنہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہوسکتے بلکہ ایک ہی ہو۔ اگرچہ بظاہر دو نظر آتے ہیں۔صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔” 
(کشتی نوح صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 16)
معزز قارئین مرزاقادیانی کا کفر یہاں ننگا ناچ رہا ہے مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ میں ظلی طور پر محمد ہوں اس کا مطلب ہے کہ نعوذباللہ اگر آیئنے میں حضورﷺ کو دیکھا جائے تو وہ مرزا قادیانی نظر آئیں گے۔اور جو مرزاقادیانی آیئنے میں نظر آرہا ہے وہ مرزاقادیانی نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ حضورﷺ ہیں۔ 
اگر دونوں ایک ہی ہیں تو پھر ظل اور بروز کی ڈھکوسلہ بازی کیوں کرتے ہو؟؟؟
اور یہی کہنا حضورﷺ کی توہین ہے اور کفر ہے۔ 
وجہ نمبر 4
مرزاقادیانی کے ظل اور بروز کے فلسفے کو مرزاقادیانی کی ہی تحریرات سے باطل ثابت کرتے ہیں۔ 
مرزاقادیانی کے ظل اور بروز کے فلسفے کو مرزاقادیانی کی ہی تحریرات سے باطل ثابت کرتے ہیں۔ 
1)مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 
“نقطہ محمدیہ ایسا ہی ظل الوہیت کی وجہ سے مرتبہ الہیہ سے اس کو ایسی ہی مشابہت ہے جیسے آیئنے کے عکس کو اپنی اصل سے ہوتی ہے۔اور امہات صفات الہیہ یعنی حیات،علم،ارادہ،قدرت، سمع ،بصر کلام مع اپنے جمیع فروع کےاتم و اکمل طور پر اس(آنحضرتﷺ) میں انعکاس پذیر ہیں۔”
(سرمہ چشم آریہ صفحہ 224 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 224)
2)مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 
“حضرت عمر ؓ کا وجود ظلی طور پر گویا آنجنابﷺ کا ہی وجود تھا۔”
(ایام الصلح صفحہ 35 روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 265)
3)مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 
“خلیفہ دراصل رسول کا ظل ہوتا ہے۔”
(شہادة القرآن صفحہ 57 روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 353)
4)مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ 
“صحابہ کرام ؓ آنخضرتﷺ کی عکسی تصویریں تھے۔”
(فتح اسلام صفحہ 36 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 21)
مرزاقادیانی کے اگر ظل اور بروز کے فلسفے کو تسلیم کرلیں تو پھر حضورﷺ کو بھی خدا تسلیم کرنا پڑے گا۔اور حضرت عمر ؓ اور تمام خلفائے راشدین کو رسول تسلیم کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ تمام صحابہ کرام ؓ کو بھی رسول تسلیم کرنا پڑے گا۔ 
کیا کوئی قادیانی ایسا ایمان رکھتا ہے کہ حضورﷺ خدا ہیں اور حضرت عمر ؓ اور تمام خلفائے راشدین رسول ہیں اور تمام صحابہ کرام ؓ رسول ہیں؟؟
اگر مرزاقادیانی کے فلسفے کے مطابق حضورﷺ خدا کے ظل ہوکر بھی خدا نہیں ہوسکتے اور حضرت عمر ؓ اور دیگر خلفاء رسول اللہﷺ کے ظل ہوکر بھی رسول نہیں ہوسکتے اور تمام صحابہ کرام ؓ حضورﷺ کا عکس ہو کر بھی رسول نہیں ہوسکتے تو مرزاقادیانی کیسے نبی اور رسول ہوسکتا ہے؟؟ 
ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ ظلی اور بروزی نبوت کی اصطلاح صرف لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ہے۔حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
وجہ نمبر 5
قادیانی قرآن پاک کی اس آیت سے استدلال کرکے کہتے ہیں کہ حضورﷺ کی کامل اتباع کرنے سے ظلی نبوت ملتی ہے۔ 

“وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا”

اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے،یعنی انبیاء،صدیقین،شہداء اور صالحین۔اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔ 
(سورۃ النساء آیت نمبر 69)
اس آیت میں دراصل اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے کو یہ خوشخبری ہے کہ وہ جنت میں نبیوں،صدیقوں،شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر قادیانی فلسفے کو تسلیم کرلیں کہ حضورﷺ کی کامل اتباع کرنے سے ظلی نبوت مل جاتی ہے تو کیا دوسرے انعام جن کا اس آیت میں ذکر ہے یعنی صدیق،شھید اور صالح ہونا، کیا یہ درجے بھی ظلی طور پر ملتے ہیں یا حقیقی طور پر ملتے ہیں؟؟ 
کیونکہ اگر قادیانی فلسفے کو تسلیم کیا جائے تو یہ درجے بھی ظلی طور پر ملنے چاہیئں۔ 
اور اگر یہ درجے حقیقی طور پر ملتے ہیں ظلی طور پر نہیں ملتے تو پھر نبوت کو بھی حقیقی طور پر ملنا چاہیے۔ 
حالانکہ شریعت کے ساتھ نبوت کا ملنا اور مستقل نبوت کا ملنا یہ تو قادیانی بھی تسلیم نہیں کرتے۔ تو پتہ چلا کہ قادیانیوں کا ظل اور بروز کا فلسفہ محض ایک ڈھکوسلا ہے۔حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ 
وجہ نمبر 6
مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 
“صدہا لوگ ایسے گزرے ہیں جن میں حقیقت محمدیہ متحقق تھی اور عنداللہ ظلی طور پر ان کا نام محمد یا احمد تھا۔” 
(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 346 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 346)
جبکہ دوسری جگہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 
“نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔” 
(حقیقة الوحی صفحہ 391 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406)
مرزاقادیانی کی ان تحریرات سے پتہ چلا کہ امت محمدیہ میں سینکڑوں لوگ ایسے گزرے ہیں جو ظلی طور پر محمد یا احمد تھے لیکن نبی نہیں تھے۔اور نہ انہوں نے نبوت کا دعوی کیا اور نہ اپنی علیحدہ جماعت بنائی اور نہ ہی اپنے منکرین کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ 
عجیب بات تو یہ ہے کہ اتنے بڑے بڑے متبعین خدا و رسول تو اس نعمت سے محروم رہے اور مرزاقادیانی جیسا کوڑھ مغز آدمی ظلی نبی بن گیا بلکہ ظلی نبی کے ساتھ حقیقی نبی بن گیا۔ 
وجہ نمبر 7
مرزا قادیانی نے ظل اور بروز کا عقیدہ ہندوؤں کے عقیدہ تناسخ و حلول سے چوری کرکے لیا۔ 
 ہندوؤں کا عقیدہ تناسخ اور حلول کا خلاصہ یہ ہے کہ جب بندہ ایک دفعہ مرجاتا ہے تو اس کی روح  دوسری دفعہ کسی میں حلول کر جاتی ہے اور اسی انسان کا دوسرا جنم ہوجاتا ہے۔جو پہلے مرچکا ہوتا ہے۔ 
لیکن ہندوؤں کے اس عقیدے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب کوئی انسان دوسری دفعہ جنم لے لیتا ہے تو وہ دوسری دفعہ جنم لے لینے کے بعد پہلے جنم کے والدین کو اپنا والدین نہیں کہ سکتا۔اور پہلے جنم کی بیوی کو اپنی بیوی نہیں کہ سکتا۔اور پہلے جنم کے بچوں کو اپنا بچہ نہیں کہ سکتا۔اسی طرح جس زمین و جائیداد کا پہلے جنم میں وارث اور مالک ہوتا ہے دوسرے جنم میں اس زمین و جائیداد کا وارث اور مالک نہیں کہلاسکتا۔ 
لیکن مرزاقادیانی نے ہندوؤں کے اس عقیدہ تناسخ اور حلول کا بھی بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا۔مرزاقادیانی نے جس شخص کو دوسرے کا ظل بنایا اس کو پہلے شخص کا وارث بھی بنادیا۔ 
 مرزاقادیانی اپنے آپ کو حضورﷺ کا ظل کہتا ہے۔ اور حضورﷺ کی ازواج مطہرات کو ام المومنین کہا جاتا ہے۔جبکہ مرزاقادیانی کے پیروکار بھی مرزاقادیانی کی بیوی کو ام المومنین کہتے ہیں۔ 
حضورﷺ کے صحابہ ؓ کی طرح مرزا قادیانی اپنے مریدوں کو صحابی کہتا ہے۔ 
حضورﷺ کی طرح مرزاقادیانی بھی اپنے آپ کو نبی اور رسول کہتا ہے اور نہ ماننے والوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہے۔ 
خلاصہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے ظل اور بروز کا عقیدہ چوری تو ہندوؤں کے عقیدہ حلول اور تناسخ سے کیا۔لیکن ہندوؤں کے عقیدے کا بھی بیڑہ غرق کر دیا۔
وجہ نمبر 8
مرزاقادیانی اور قادیانی جماعت کی تحریرات ملاحظہ فرمائیں اور خود فیصلہ کریں کہ کیا ظل اور بروز کا فلسفہ انسانی عقل اور فہم میں آتا ہے؟؟ 
1)مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ 
“محمد رسول اللہ والذین معہ” 
(سورۃ الفتح آیت نمبر 29)
اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔
(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 1 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207)
2)مرزاقادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے کہ 
“پس مسیح موعود (مرزاقادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے۔جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔” 
(کلمتہ الفصل صفحہ 158)
3)قادیانی اخبار الفضل میں لکھا ہے کہ 
“مسیح موعود(مرزاقادیانی) کا آنا بعینیہ محمد رسول اللہ کا دوبارہ آنا ہے۔یہ بات قرآن سے صراحتہ ثابت ہے کہ محمد رسول اللہ دوبارہ مسیح موعود(مرزاقادیانی) کی بروزی صورت اختیار کر کے آئیں گے۔” 
(الفضل جلد 2 نمبر 24) 
4)قادیانی اخبار الفضل میں لکھا ہے کہ 
“پھر مثیل اور بروز میں بھی فرق ہے۔بروز میں وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتا ہے۔یہاں تک کہ نام بھی ایک ہوجاتا ہے۔۔۔ بروز اور اوتار ہم معنی ہیں۔”
(الفضل 20 اکتوبر 1931ء)
5)قادیانی اخبار الفضل میں لکھا ہے کہ 
“میں احمدیت میں بطور بچہ تھا جو میرے کانوں میں یہ آواز پڑی۔ 
مسیح موعود محمد است و عین محمد است” 
(الفضل 17 اگست 1915ء)
6)مرزاقادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے کہ 
“اس میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالٰی نے پھر محمدﷺ کو اتارا۔” 
(کلمتہ الفصل صفحہ 105)
مرزا قادیانی اور دوسرے قادیانیوں کی ان تحریرات سے پتہ چلتا ہے کہ نعوذ باللہ محمدﷺ اور مرزاقادیانی ایک ہی ہیں۔ 
اس کی 3 صورتیں ہیں۔ 
1)پہلی صورت یہ ہے کہ کیا حضورﷺ کا جسم مبارک اور روح مبارک نعوذ باللہ مرزاقادیانی کی شکل میں دوبارہ دنیا میں تشریف لائے؟ 
یہ صورت تو غلط ہے کیونکہ حضورﷺ کا جسم مبارک تو مدینہ شریف میں روضہ مبارک میں مدفون ہے۔ 
2)دوسری صورت یہ ہے کہ کیا نعوذباللہ حضورﷺ کی روح مبارک مرزاقادیانی کے جسم میں حلول کر گئی؟ 
یہ صورت بھی غلط ہے کیونکہ یہ عقیدہ تو ہندوؤں کا ہے کہ ایک فوت شدہ انسان دوسرے جنم میں آتا ہے۔ 
یہ ہندوؤں کا عقیدہ تو ہوسکتا ہے لیکن اسلام میں اس عقیدے کی کوئی گنجائش نہیں۔ 
کیونکہ یہ عقیدہ قرآن و حدیث کے صراحتا خلاف ہے۔ 
3)اس کی تیسری صورت یہ ہے کہ نعوذ باللہ مرزاقادیانی میں حضورﷺ کے اوصاف و کمالات ہوں۔ 
یہ صورت بھی غلط ہے کیونکہ 
1)حضورﷺ امی تھے اور مرزاقادیانی کئی کتابوں کا مصنف تھا۔ 
2)حضورﷺ عربی تھے اور مرزاقادیانی عجمی تھا۔ 
3)حضورﷺ قریشی تھے اور مرزاقادیانی مغل قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ 
4)حضورﷺ دنیاوی لحاظ سے بےبرگ و بےنوا تھے جبکہ مرزاقادیانی کو رئیس قادیان کہلانے کا شوق تھا۔ 
5)حضورﷺ نے مدنی زندگی کے 10 سالوں میں سارا عرب زیرنگیں کرلیا تھا۔جبکہ مرزاقادیانی غلامی کی زندگی کو پسند کرتا تھا۔اور جہاد اور فتوحات کا قائل نہیں تھا۔
6)حضورﷺ کے ہاں اسلام کو آزادی کا مترادف قرار دیا گیا ہے۔اور مرزاقادیانی کے ہاں اسلام غلامی کا مترادف ہے۔ 
7)حضورﷺ کی صداقت کی گواہی غیروں نے بھی دی تھی۔جبکہ مرزاقادیانی کو آج تک قادیانی سچا ثابت نہیں کر سکے۔ 
8)حضورﷺ کا کردار ایسا پاکیزہ اور صاف ستھرا تھا کہ غیر بھی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکے۔اور مرزاقادیانی کا کردار ایسا ہے کہ خود مرزاقادیانی کے ماننے والے مرزا قادیانی پر زنا کے الزام لگاتے رہے۔ 
9)حضورﷺ کے مالی معاملات اور حقوق العباد کی ادائیگی میں بےمثال زندگی دنیا بھر کے لئے نمونہ ہے۔جبکہ مرزاقادیانی کی خیانت اور لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنا آج بھی قادیانیوں کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ 
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضورﷺ اور مرزاقادیانی میں نہ وحدت جسم ہے اور نہ وحدت روح ہے۔اور نہ ہی وحدت کمالات ہے اور نہ ہی وحدت اوصاف ہے۔ 
پھر یہ کیسے تسلیم کر لیا جائے کہ نعوذباللہ مرزاقادیانی حضورﷺ ہی ہے۔اور نعوذ باللہ حضورﷺ ہی دوبارہ مرزاقادیانی کی شکل میں آ گئے ہیں۔
وجہ نمبر 9
مرزاقادیانی نے جو ظل اور بروز کا عقیدہ گھڑا ہے یہ عقیدہ نہ قرآن کی کسی آیت سے ثابت ہے اور نہ کسی حدیث سے ثابت ہے۔ بلکہ یہ عقیدہ ہندوؤں کے عقیدہ حلول اور تناسخ سے چوری شدہ ہے۔اس لئے ایسا عقیدہ جو اسلام کے بنیادی عقیدے کے ہی خلاف ہو وہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے۔ 

“خلاصہ کلام”

ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی کا عقیدہ ظل و بروز قرآن و احادیث کے خلاف ہے۔ہندوؤں کے عقیدہ حلول اور تناسخ سے چوری کیا گیا ہے۔ 
اور خود مرزاقادیانی کی تحریرات سے بھی باطل ثابت ہوتا ہے۔اور یہ ایسا جھوٹا عقیدہ ہے جو عقل و فہم سے بھی بالاتر ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.