حق وباطل کی آویزش میں ختمِ نبوت اُمت کی آخری پناہ گاہ

سعد کامران

سعد کامران

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ و سلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی


’’۵؍ ربیع الاول ۱۴۴۴ھ مطابق ۲؍اکتوبر ۲۰۲۲ء کو گلستانِ انیس، شہید ملت روڈ کراچی میں تحفظِ ختمِِ نبوت سیمینار منعقد ہوا، جس میں نائب رئیس جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن حضرت مولانا احمد یوسف بنوری مدظلہٗ نے خطاب فرمایا، آپ کا خطاب افادۂ عام کی خاطر تحریری صورت میں ہدیۂ قارئین کیا جا رہا ہے۔‘‘ (ادارہ بینات)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سیّدالمرسلین وخاتم النبیین وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین ومن تبعہم بإحسان إلٰی یوم الدین، أما بعد! فأعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم: ’’وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیَاطِیْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ۔‘‘ (الانعام:۲۱۱) ’’وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ عزّوجلّ لم یبعث نبیًا إلاحذر أمتہٗ الدجال وأنا آخر الأنبیاء وأنتم آخر الأمم وہو خارج فیکم لامحالۃ۔‘‘  (سنن ابن ماجہ، باب فتنۃ الدجال، ابواب الفتن، رقم الحدیث:۷۷۰۴، ص:۷۹۲، مطبع: نور محمد، کراچی)
اللّٰہم صل صلاۃً کاملۃً وسلم سلامًا تامًا علٰی سیّدنا محمد صلاۃً تنحل بہ العقد وتنفرج بہ الکرب وتقضیٰ بہ الحوائج وتنال بہ الرغائب وحسن الخواتیم ویستسقی الغمام بوجہہ الکریم وعلیٰ آلہٖ وصحبہٖ في کل لمحۃ ونفس بعدد معلوماتک۔
محترم و مکرم حاضرین گرامی، محترم مائیں، بہنیں اور اس مجلس میں تشریف فرما علمائے کرام و مشائخ عظام! اس بابرکت مہینے میں -جو اپنے نام کے لحاظ سے بہار کا مہینہ ہے- اس چمن میں بہار آئی ہے، اور ہم آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے مبارک ذکر، ان کی ختمِ نبوت اور ان کی ناموس و عصمت کے تحفظ کے عنوان سے جمع ہیں، کہیں اور جمع ہوتے یا کہیں اور مل بیٹھنے کا موقع ملتا تو کہنے کا بھی حساب دینا پڑتا اور جمع ہونے کا بھی حساب دینا پڑتا۔ یہاں جمع ہیں تو اُمید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اس کو ذخیرۂ آخرت بنائے گا۔ بہت مبارک اور بہت محترم ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس محنت کو گلی گلی، کوچے کوچے، نگر نگر میں زندہ کیا ہوا ہے۔ یہ عشقِ نبی کی شمع ہے جو رات میں بھی جلتی ہے اور دن میں بھی روشنی دیتی ہے، یہ چراغ ہیں جو صدیوں سے جل رہے ہیں اور آج اس کا ہم نمونہ دیکھ رہے ہیں۔ بالکل صحیح ہے کہ میرے لیے خود شرف ہے کہ میں اس کا میزبان بنوں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ محنت ان بزرگوں اور ان اکابرین کی ہے جنہوں نے سر پر کفن باندھنا پڑا تو سر پر کفن باندھا، مسندِ حدیث چھوڑنا پڑی تو مسندِ حدیث سے کچھ دیر کے لیے توقُّف اختیار کیا، قلم و قرطاس کا میدان سجانا پڑا تو صاحبِ قلم و قرطاس ہوئے، شہادت کا عروسی جامہ پہننا پڑا تو جامہ پہنا، تب جاکر یہ سلسلے اور یہ محفلیں آباد ہوئیں۔

معرکۂ ایمان ومادیت

عزیزانِ گرامی! واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں معرکے بہت سے برپا ہیں اور مختلف عنوانوں سے انسان باہم آویزش کا شکار ہیں، آمیزشیں بھی جاری ہیں، مختلف عنوانوں سے جھگڑوں اور خطرناک صورت حالوں کا انسانوں کو سامنا ہے، لیکن بنانے والے نے بتایا ہے کہ اس کائنات میں اصل معرکہ اور اصل مقابلہ ایک ہی ہورہا ہے، باقی جتنی چیزیں ہیں وہ ضمنی، عارضی اور وقتی ہیں، یہ ایسا معرکہ ہے جو صدیوں بلکہ قرنوں سے چلا آرہا ہے اور اس معرکے کا آغاز ہمارے اور ہمارے آباء و اجداد کی موجودگی میں نہیں، بلکہ اس سے کہیں پہلے کُل انسانیت کی پیدائش سے پہلے شروع ہوگیا تھا، اور یہ وہ معرکہ ہے جس میں براہِ راست اللہ تبارک و تعالیٰ مدعی بن کر کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ میں اس کائنات میں ایک جیتی جاگتی سمجھدار مخلوق کو اپنا خلیفہ بناکر بھیجنے والا ہوں:
 ’’وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَۃِ إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الْأَرْضِ خَلِیْفَۃً‘‘ (البقرۃ:۳۰) 
ترجمہ: ’’ اور جس وقت ارشاد فرمایا آپ کے رب نے فرشتوں سے کہ ضرور میں بناؤں گا زمین میں ایک نائب ۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
جب آسمان و زمین پتا نہیں کس حالت میں تھے، زمین اپنے کس مرحلۂ تخلیق سے گزر رہی تھی، ابھی پانی اور سمندر اپنی کس ترتیب اور روانی و طغیانی سے گزر رہے تھے، ہم اس کے بارہ میں پیغمبر( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی دی ہوئی تعلیمات کے باوجود اس کا احاطہ نہیں کرسکتے، اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے قدسی صفات فرشتوں کی مجلس میں فیصلہ کردیا کہ اب اس دنیا میں‘ میں جیتی جاگتی مخلوق پیدا کررہا ہوں اور وہ میرا خلیفہ و نمائندہ ہوگا، ہم اسے اختیار دیں گے، اس کی سب سے بڑی آزمائش یہ ہوگی کہ وہ اپنے ارادے اور اختیار کے باوجود میری بندگی اختیار کرے گا۔ تفصیلات معلوم ہیں، میں جس طرف اشارہ کررہا ہوں، ان واقعات سے آپ میں سے ہر ایک واقف ہے، اس موقع پر جنات میں سے ایک فرد، قرآن نے جس کا نام بتایا ہے: ابلیس:
’’کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّہٖ‘‘  (الکہف:۵۰) 
ترجمہ: ’’ وہ جنات میں سے تھا، سو اس نے اپنے رب کے حکم سے عدول کیا ۔‘‘(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
وہ باری تعالیٰ کے مقابلے میں کھڑا ہوگیا اور اس نے باری تعالیٰ کی بات ماننے سے انکار کردیا، نہ صرف بات ماننے سے انکار کردیا، بلکہ کہا کہ اب جس مشن کے لیے آپ حضرت آدم  علیہ السلام  کو دنیا میں بھیجیں گے اور اس کی نسل سے جو معاملہ شروع ہوگا، میں مقابلے میں کھڑا ہوجاؤں گا اور میں اس مشن کو کامیاب ہونے نہیں دوں گا۔ میں اس کائنات میں بندوں کو اپنے اختیار سے آپ کی حکومت، آپ کی عبادت اور آپ کا نظام قائم کرنے نہیں دوں گا۔

انسانی آزمائش اور دو سلسلے: تسویلِ شیطانی اور وحیِ ربانی

باری تعالیٰ جو خلاقِ عالم، خالقِ شش جہات، ساری کائنات سے بالا ہے، اس نے یہ ادعاء قبول فرمالیا اور کہا:
 ’’وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْہُمْ بِصَوْتِکَ وَاجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ وَشَارِکْھُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدْہُمْ۔‘‘  (الاسراء:۶۴) 
ترجمہ:’’ اور ان میں سے جس جس پر تیرا قابو چلے اپنی چیخ وپکار سے اس کا قدم اُکھاڑ دینا اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لانا اور ان کے مال اور اولاد میں اپنا ساجھا کرلینا اور ان سے وعدہ کرنا۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
حاصل یہ کہ جو کرنا ہے کرو، جو چیز تمہارے بس میں ہے، اختیار کرنے کی ہے‘ کرو، میں باری تعالیٰ اور خالقِ کائنات ہونے کے باوجود تمہیں مہلت دیتا ہوں ’’إلی یوم الدین‘‘ تاروزِ محشر۔ میں اس کے مقابلے میں ایک سلسلۂ ہدایت قائم کروں گا، میں اس کے مقابلے میں ایسے لوگوں کا انہی انسانوں میں سے انتخاب کروں گا جنہیں خود اپنے شرفِ کلام سے مشرف کروں گا، ان پر میری وحی آیا کرے گی، ان پر میرا کلام نازل ہوا کرے گا اور وہ انسانوں کو سیدھا رستہ بتائیں گے:

 ’’فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ہُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَااُولٰئِکَ اَصْحَابُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ۔‘‘        (البقرۃ:۳۸،۳۹) 

ترجمہ: ’’ پھر آوے تمہارے پاس میری طرف سے کسی قسم کی ہدایت، سو جو شخص پیروی کرے گا میری اس ہدایت کی تو نہ کچھ اندیشہ ہوگا ان پر اور نہ ایسے لوگ غمگین ہوں گے۔ اور جو لوگ کفر کریں گے اور تکذیب کریں گے ہمارے احکام کی، یہ لوگ ہوں گے دوزخ والے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
حضرت آدم  علیہ الصلاۃ والسلام  کو دنیا میں بھیجنے کے بعد یہ بتادیا کہ اپنی نسل کو یہ پیغام دینا کہ دو آوازیں لگیں گی، دو جگہوں سے پکارا جائے گا، دو سلسلے تمہارے سامنے آئیں گے، ایک وہ لوگ ہوں گے جن کا ہم انتخاب کریں گے: 
’’إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی آدَمَ وَنُوحًا وَّ آلَ إِبْرَاہِیْمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعَالَمِیْنَ‘‘ (آل عمران:۳۳) 
ترجمہ: ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے (نبوت کے لیے) منتخب فرمایا ہے (حضرت) آدم کو اور (حضرت) نوح کو اور (حضرت) ابراہیم کی اولاد ( میں سے بعضوں) کو اور عمران کی اولاد (میں سے بعضوں) کو تمام جہان پر۔‘‘  (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
جنہیں ہم چنیں گے، جن کے اوپر عصمت کی چادر ہم تانیں گے، جن کی پیدائش سے لے کر آخری عمر تک تمام جزئیات ہم طے کردیں گے، وہ عام انسانوں کی طرح زمین پر چلتے پھرتے نظر آئیں گے، مگر ہوں گے ہمارے نمائندے، زبان سے ان کی بات نکلے گی، لیکن وہ ہماری بات ہوگی: 
’’وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی  إِنْ ہُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔‘‘    (النجم:۳،۴) 
ترجمہ: ’’ اور نہ آپ اپنی خواہشِ نفسانی سے باتیں بناتے ہیں، ان کا ارشاد نری وحی ہے جو اُن پر بھیجی جاتی ہے۔‘‘   (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
ان کی بات وحی کہلائے گی، بولیں گے وہ ، فیصلہ ہمارا ہوگا۔ وہ اشارہ کریں گے، چاند دو ٹکڑے ہوجائے گا، ان کے فیصلوں سے اُمتوں کی تاسیس ہوگی، ان کی بنائی ہوئی اُمت حزب اللہ بن جائے گی اور ان کے مقابلے پر آنے والی اُمت حزب الشیطان کہلائے گی۔
عزیزانِ گرامی! یہ سلسلہ، یہ معرکہ اور یہ آواز ہے جو اصلاً اس دنیا کے ہر انسان کو درپیش ہے۔ یہ جنگ ہے جس میں ہم ڈال دئیے گئے ہیں،یہ زاویہ ہے کہ جس زاویے سے دیکھیں تو کائنات کی تفہیم بہتر ہو جاتی ہے اور ہمیں سمجھ آنے لگتا ہے کہ اس کائنات میں اصل میں کن طاقتوں کی آمیزش اور آویزش چل رہی ہے، یہاں کیا معرکے ہیں اور ہم کس رخ کی طرف چل رہے ہیں۔

تاقیامت اللہ کی دعوت اور اس کا پیغام 

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی

عزیزانِ گرامی! ہم سب واقف ہیں کہ یہ سلسلہ حضرت آدم  علیہ السلام  سے شروع ہوا اور محمد عربی  صلی اللہ علیہ وسلم  تک پہنچا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا‘‘یعنی ’’ہم نے ہر نبی کے لیے دشمن بنائے ہیں (انسانوں میں سے بھی اور جنات میں سے بھی)۔‘‘ اور اس کے لیے لفظ ہے: ’’یُوْحِیْ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ‘‘، ’’وہ ایک دوسرے کو بھی وحی کرتے ہیں۔‘‘ وحی کا لفظ ہے، یعنی وہ بھی ان کو الہام کرتے ہیں، دنیا کی خوبصورت باتیں، خوبصورت نعرے، خوبصورت نشوونما، تاکہ جو پیغمبر کا سلسلہ ہے، تاکہ اس سے رشتہ کاٹ دیا جائے، اس تعلق میں دراڑ آجائے، یہ پیغمبروں کی بات قابلِ فہم نہ رہے، اس میں شکوک و شبہات کے پردے آجائیں، انسانوں کے لیے حقیقی وحی، حقیقی نبوت اور اللہ کا حقیقی پیغام سمجھنا مشکل سے مشکل تر بنادیا جائے، ان کے لیے جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ انتخاب و اصطفا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے انسانوں میں ہر دور میں ایسے لوگ رہے ہیں جو شیطان کے اس اغوا اور اس چال کا شکار ہوجاتے ہیں، وہ اس کی بنائی ہوئی اُمت کے مقابلے میں ایک اپنی بنائی ہوئی اُمت کو کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ پیغمبروں کے بعد ہر زمانے میں یہی صورت حال ہوئی۔ حضرت موسیٰ  علیہ السلام  کے ماننے والے صحابیؓ تھے، حضرت موسیٰ  علیہ السلام  کے ماننے والوں نے جنت کا انتخاب کیا تھا، مگر اس پوری اُمت کو بگاڑ کر یہودیت کی شکل بن گئی۔ حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  کے ماننے والے قرآن کریم میں ’’انصاراللہ‘‘ کہلاتے ہیں، نصرتِ دین کے لیے وہ کھڑے ہوئے اور کہا: ’’نَحْنُ اَنصَارُاللّٰہِ‘‘ (الصف:۴۱) یعنی ’’ ہم اللہ کے (دین) کے مددگار ہیں ۔‘‘ مگر اس کے بعد شیطان کے اغوا کا شکار ہوئے اور مسیحیت کے روپ میں آج دو ارب انسان حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  کو مان کر بھی ان کو ماننے والے نہیں رہے، وہ بات کررہے ہیں کہ ہم حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  کو مان رہے ہیں، وہ حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  کی یاد مناتے ہیں، ان کے لیے گرجے بناتے ہیں، ان کی عبادت کرتے ہیں، ان کا تذکرہ کرتے ہیں، مگر قرآن کا فیصلہ ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  کے ماننے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے نئی اُمت کھڑی کردی ہے، اس پیغام میں اور اس دعوت کے اندر رکاوٹ بنادی گئی ہے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ختمِ نبوت کے بعد یہ اُمت تھی، جسے اسی ختمِ نبوت کی نعمت و برکت کی وجہ سے تاقیامت اللہ کی دعوت اور اس کا پیغام دنیا تک پہنچانا تھا۔

عقیدۂ ختمِ نبوت

عزیزانِ گرامی! قادیانیت نے یہ فریب دیا کہ نبوت ایک خدائی نعمت ہے، جسے جاری رہنا چاہیے، مگر انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ بارش نعمت ہے، رحمت ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ بارش زحمت کیسے بن جاتی ہے! ہم جانتے ہیں کہ دھوپ اللہ کی نعمت ہے، جب وہ ایک خاص موقع میں ایک خاص مناسبت سے اپنی جلوہ سامانیاں دکھائے، یہی دھوپ اپنی حدود سے بڑھ جائے اور بے وقت ہوجائے تو یہ دھوپ زحمت بن جاتی ہے، یہی روشنی انسانوں کو راہ دکھانے کا باعث بنتی ہے، جب وہ ایک خاص زاویے سے بڑھے اور راستہ دکھائے اور اگر یہ روشنی آپ کی آنکھوں کا رخ کرلے تو آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، جو صلاحیت موجود بھی ہے وہی نکل جاتی ہے۔ نبوت، پیغمبریت اوراللہ تعالیٰ کا شرفِ کلام، اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی رحمت تب تھے جب یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے تھے، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتے تھے، ورنہ اس کا ختم اور مکمل ہوجانا اُمت کے لیے غیر معمولی رحمت ہے۔ یہ غیر معمولی فضل کا سامان تھا کہ جو بات اللہ تعالیٰ کو بندوں سے کہنا تھی، وہ مکمل کردی گئی: 
’’الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْإِسْلاَمَ دِیْنًا‘‘  (المائدہ: ۳) 
ترجمہ: ’’آج کے دن تمہارے لیے تمہارے دین کو میں نے کامل کردیا اور میں نے تم پر اپنا انعام تام کردیا اور میں نے اسلام کو تمہارا دین بننے کے لیے پسند کرلیا۔‘‘   (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
یعنی سلسلۂ نبوت مکمل کردیا گیا۔

اداءِ امانت 

اس کے بعد اس امت کا موقع تھا، اس امت نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے لائے ہوئے قرآن کو دنیا میں اس طرح پہنچایا کہ دنیا میں کوئی چیز اس پائے کے استناد کے ساتھ پہنچنا ممکن نہیں ہے، جسے ہم علمی اصطلاح میں تواتر اور اجماع کہتے ہیں، وہ اس لحاظ سے کامل طریقے سے پہنچا کہ کوئی یہ کہنے کی جرأت تو کرسکتا ہے یا یہ کہنے کا یارا تو رکھ سکتا ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا – نعوذباللہ – ذاتی کلام ہے، مگر اللہ تعالیٰ کا فرستادہ نہیں، یہ تو ایک آدمی گفتگو کرسکتا ہے، سوال کرسکتا ہے، ہم جواب دیں گے کہ نہیں! یہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  پر نازل ہوا ہے، آپ کا خود تراشیدہ نہیں ہے، مگر علم کی دنیا میں یہ بات کہنا ممکن ہی نہیں رہتا کہ جو قرآن مسلمان پڑھتے ہیں، جو قرآن اُن کے ہاتھوں میں ہے، یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے نہیں دیا۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے، اگر اس کا کوئی انکار کرتا ہے تو پھر انسانوں کے جملہ علوم کا انکار کرنا پڑے گا، کیونکہ پھر انسانوں کے پاس نقلِ علم کا کوئی ذریعہ نہیں رہ سکتا۔ 

حصولِ علم کے ذرائع

اس وقت ہمیں کم از کم سمجھانے کا موقع میسر ہے اور ہمیں قدرے تفصیل سے بات کرنے کا موقع مل رہا ہے، مگر میں پھر بھی اس کی فلسفیانہ جہت کی طرف نہیں جاؤں گا۔ انسانی علم جو نقل ہوکر آتا ہے، ایک تو وہ ہے جسے آپ دیکھتے ہیں، آپ نے دیکھا کہ ہمارے سامنے ایک آدمی آرہا ہے، جارہا ہے، یہ علم ہے جو ہم مشاہدے سے حاصل کرتے ہیں، مگر آپ اپنے علم کا جائزہ لیں کہ کیا ہم تمام چیزوں کو مشاہدے کی بنیاد پر مانتے ہیں؟! ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے، اس مشاہدہ کے علاوہ ہمارے علم کا ایک بہت بڑا ذریعہ خبر پر مبنی ہوتا ہے، ہم دوسرے کے بتائے ہوئے علم کو خود بھی سمجھتے ہیں، آگے منتقل بھی کرتے ہیں۔ انسانوں کی دوسری مخلوقات میں امتیاز کی ایک خاص وجہ خبر کا علم ہے۔ ہم جانتے ہیں نا کہ پاکستان کس نے بنایا؟ پاکستان بنانے میں شریک کون کون تھے؟ تحریک پاکستان کے رہنما کون کون تھے؟ اس سے پہلے دہلی میں حکومت کس کی تھی، دنیا میں حکومتیں کس کی تھیں؟ ہم جانتے ہیں کہ تاج محل بنانے والا شاہ جہاں تھا، اس نے کس خاص غرض سے بنایا؟ لاہور کی بادشاہی مسجد کس نے بنائی تھی؟ یہ تمام علم خبر کا ہے، یہ ہم تک خبر پہنچی ہے۔ یہ تمام چیزیں ہمارے مشاہدے میں نہیں آئیں، ہم تو اس وقت نہیں تھے، مگر ان چیزوں کو مانتے ہیں، یہ وہ علم ہے جس کی بنیاد خبر ہے۔ یہ خبر کا علم جس مضبوط ترین ذریعہ سے نقل ہوتا ہے وہ تواتر اور اجماع ہے، قرآن کریم بھی اسی تواتر اور اجماع سے نقل ہوا ہے اور یہ ذریعہ حتمی اور آخری طریقہ کار ہے، چنانچہ اس کا انکار ممکن ہی نہیں رہا کہ کوئی آدمی یہ کہہ سکے کہ یہ قرآن کریم وہ نہیں ہے۔ 

سنت کی حفاظت وقطعیت ختمِ نبوت کی برکت

پورے اعتماد کے ساتھ نہ صرف یہ قرآن بلکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دین کی بعض وہ روایات جسے سنت کہتے ہیں، اس کا بڑا حصہ بھی مکمل اسی اعتماد کے ساتھ تواتر تک پہنچ گیا۔ ہر ایک کو معلوم ہے، ہم پورے یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ فجر کی رکعتیں کتنی ہیں؟ دو! ظہر کی؟ چار! عصر کی؟ چار! مغرب کی؟ تین! عشاء کی؟ چار۔ قرآن کریم میں ان کی تعداد موجود نہیں ہے، مگر اُمت نے دین پہنچانے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت سے اتنا کمال کیا کہ پورا سنت کا دین بھی کامل طریقے سے ہم تک پہنچایا۔ قرآن کریم کے علاوہ دیگر سنت کا دین ہے، دونوں کا ذریعہ ایک ہی ہے، یعنی پوری اُمت کا اتفاق اور تواتر۔ یہ پورا دین ختمِ نبوت کی برکت سے پہنچا، پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبانی روایات پہنچانے کا ایک پورا دور شروع ہوا اور اس پورے دور میں محدثین کرام نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سوانح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کس موقع پر کیا ارشاد فرمایا، علم و عقل کے تمام معیارات کی روشنی میں اس کو جتنا ممکن ہوسکا ظنِ غالب اور یقین کے درجے تک پہنچادیا، جسے ہم حدیث کی صورت میں علم کہتے ہیں۔ یہ تمام کام ختمِ نبوت کی برکت سے ہوا۔ 

ختمِ نبوت امت کی وحدت کا ذریعہ

عزیزانِ گرامی! یہ سلسلہ کیوں قائم ہوا؟اس لیے کہ اس کائنات میں جو اصل معرکہ درپیش ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بات ہر فرد تک پہنچے، تاکہ قیامت کے دن جب اللہ تبارک و تعالیٰ سوال کرے کہ اس نے اپنی بات کیا کہی تھی؟ اپنے بندوں سے کیا چاہا تھا؟ تو بندے یہ نہ کہیں کہ ہمارے پاس ذریعہ نہیں تھا، ہم تو بعد میں پیدا ہوئے تھے، ہم نے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے میں آنکھ نہیں کھولی تھی، ہمیں نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کیا بات کہی؟ مگر ختمِ نبوت کی برکت سے پوری اُمت اتفاق و اتحاد و اجماع کے ساتھ یہ پورا دین آگے تک منتقل کر رہی ہے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’إِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطَانٌ۔‘‘ (الحجر:۲۴) 
ترجمہ: ’’ واقعی میرے ان بندوں پر تیرا ذرا بھی بس نہ چلے گا، ہاں! مگر جو گمراہ لوگوں میں تیری راہ پر چلنے لگے (تو چلے) ۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی معرکے کے شروع میں فرمادیا تھا کہ بعض بندے ایسے ہوں گے جن پر تمہارا زور نہیں چلے گا، تمہاری اہلیت اور تمہاری شیطانی طاقت کا یہ زور ان کے اوپر نہیں چل سکے گا۔ اس کا مصداق بن کر اُمت یہ دین آگے تک پہنچاتی رہی۔

دجالوں کا دجل اور تلبیسِ ابلیس

عزیزانِ گرامی! آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اشارہ فرمادیا تھا کہ ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا اور میں بھی تمہیں دجال سے ڈرا رہا ہوں۔ دجال، دجل سے ہے۔ یہ ایک شخصیت ہوگی، یہ فرد ہوگا جو اپنی پوری حشر سامانیوں کے ساتھ آخری زمانے کے اندر آئے گا، لیکن اس کے پیچھے ایک پورا نظام کارفرما ہوگا، اس کے پیچھے دجل و تلبیس کی ایک پوری دوڑ کارفرما ہوگی۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی خبردار فرمایا تھا کہ اس دجل کے مختلف نمائندے ہوں گے، ان میں سے خطرناک ترین نمائندہ وہ ہوگا جو براہِ راست میری نبوت پر حملہ آور ہوجائے گا، وہ نبوت جو انسانوں کو بچانے کے لیےسب سے محفوظ طریقہ ہے، وہ ابلیس کا سب سے بڑا نمائندہ اس نبوت کے خلاف کھڑا ہوجائے گا اور انسانوں کا رشتہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ کی نبوت سے کاٹنے کی کوشش کرے گا، اور ایک روایت ابوداؤد میں ہے جسے آپ نے سماعت کررکھا ہوگا کہ تیس سے زیادہ ایسے دجال و کذاب آئیں گے جو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نبوت پر حملہ آور ہوں گے۔

معرکۂ حق وباطل اور کرنے کا کام

عزیزانِ گرامی! ہم چھوٹے لوگ ہیں، مگر ان اکابر کی رہنمائی کی روشنی میں اگر ان پورے حالات کا جائزہ لیں تو ہمارے سامنے اس وقت معرکے کے خدوخال نمایاں ہوگئے ہیں۔ ہمیں سمجھ میں آرہا ہے کہ اس وقت صورت حال کیا درپیش ہے؟! ابلیس کی طاقتیں کن نمائندوں کو لے کر کیا صورت حال اختیار کررہی ہیں؟ ان کی زد کہاں پڑ رہی ہے؟ کون سے فتنے ہیں جو اس وقت متوجہ ہیں؟ اور ان کے بچانے کے لیے کون سی آواز ہے جو لگائی جاتی ہے؟ کون سی جگہ ہے جہاں اُمت کو پناہ مل جائے؟ یقین مانیے عزیزانِ گرامی! یہ معرکہ اور اس کے فیصلے ہوچکے، اس معرکے کی پشت پر خود اللہ تبارک و تعالیٰ کھڑا ہے، اس معرکے کی پشت پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طاقتیں کھڑی ہیں، وہ اپنے تمام فیصلے فرماچکا ہے، انسانوں اور ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم سمجھیں کہ اس معرکے میں ہمیں کیا کردار اد اکرنا ہے؟ 

آسمانی مذاہب سے بے زاری کی تحریکیں

آپ تاریخی لحاظ سے دور دیکھ رہے ہیں، پیغمبروں کا یہ دور جو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  پر ختم ہوا اور آپ کا دین مکمل ہوا تو اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں سولہویں صدی کے اندر یورپ میں رینی سانس (Renaissance) [نشاۃِ ثانیہ] کی تحریک کا آغاز ہوا اور اس تحریک کے آغاز میں پورے اہتمام سے کوشش کی گئی کہ انسانوں کا تعلق وحیِ الٰہی سے کاٹ دیا جائے۔ یہ احساس پیدا کیا جائے کہ وحیِ الٰہی سے حاصل ہونے والا علم نہ صرف کافی نہیں ہے، بلکہ انسانوں کی ترقی میں یہ رکاوٹ ہے۔ رینی سانس کے عہد کے بعد عیسائیت کے اندر پروٹسٹنٹ (Protestant) فرقے کا ظہور ہوا اور عیسائیت کے اندر کلیساکو اپنے تمام جبر و ستم کے بعد حکومت سے دیس نکالا دے دیا گیا اور ریاست و حکومت کے ساتھ اس کا تعلق ختم کردیا گیا۔ دنیا میں سیکولر اسٹیٹ کے قیام کی صورتیں ہوئیں اور دنیا کو بتایا گیا کہ مذہب کا تعلق ریاست سے نہیں ہے، مذہب کا تعلق جب بھی ریاست کے ساتھ قائم ہوگا تو یہ دنیا میں مسائل کا باعث بنے گا۔
اس کے بعد اس کے نمائندے باہر نکلے اور ۱۸۵۷ء کے زمانے میں اور ۱۹۲۳ء تک پورے عالم اسلام کے اندر مسلمانوں کی کوئی حکومت باقی نہیں رہی، مسلمانوں کی ریاست نام کی کوئی چیز نہیں رہی، یہاں مشرق سے لے کر پوراہندوستان ، پوراعرب ، یہ تمام علاقے جو تھے‘ بندر بانٹ کے نتیجے میں کچھ برطانیہ کے حصے میں آگئے، کچھ فرانسیسی انقلاب کا شکار ہوگئے، کہیں ولندیزی({ FR 11970 }) استبداد قائم ہوا اور خلافتِ اسلامیہ کا پورا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ اس کے بعد اگلا حملہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے ساتھ ان کی تہذیب اور ان کی وحی کے معاملے میں بھی جنگ شروع کردی گئی، یہ ۱۸۵۷ء کے بعد کا زمانہ ہے۔

فتنۂ مرزائیت اور اسلامی اَساس پر حملے

عزیزانِ گرامی!ایک طرف مرزا کی نبوت کا فتنہ شروع ہوا، مسلمانوں کی تعلیم کا فتنہ شروع ہوا اور مسلمانوں کی تعلیم کی نئی اَساسیں مرتب کردی گئیں، یہی زمانہ شروع ہوا جس زمانے میں دجل سے رنگینیاں اور ترقیات کے نام پر بتایا گیا کہ اب تک انسان انتہائی کسمپرسی میں تھے، یہ نئی دنیا قائم ہوگئی ہے۔ 

مادیت کے فتنےاور خودساختہ محسنین کی جدید فہرست

آپ اہتمام کے ساتھ اگر یہ تاریخ پڑھیں، اس میں دنیا کو بتایا گیا کہ محسنین کی جو فہرست ہے، اس میں نئے کیریکٹر آئے۔ لوگ بڑے اہتمام سے پوچھتے ہیں کہ یہودیوں نے تو دنیا کو دوائیوں کا علاج دیا، یہ جس اسپیکر کے ذریعے میں آپ سے بات کررہاہوں، یہ ان سے ملا، دنیا میں لائٹوں کا اہتمام ان سے ہوا، سفر و نقل کا اہتمام انہی کے ذریعے ہوا، آئن اسٹائن، نیوٹن، اسٹیفن ہاکنگ آئے، دنیا میں جہاز بن گئے، نئی نئی خلائیں قبضہ کی جارہی ہیں، اس کے مقابلے میں یہ کیا عقیدہ ہے کہ آپ نے اس کو مان لیا، اس کو مان لیا، قبلے کا رخ یہاں کرلیا، وہاں کرلیا، ان چیزوں کی کیا ضرورت ہے؟ انسانیت کو تو اس کی ضرورت ہے کہ اس کو دو وقت کی روٹی ملے۔
یہی وہ دور ہے جب دنیا میں مارکس ازم (Marxism) ({ FR 11972 }) کا فلسفہ شروع ہوا اور معیشت کے نام پر بتایا گیا کہ نئی ترتیب قائم کی جائے، زمین اور ملکیت کے نام پر نئے فلسفے گھڑے گئے، تو اب بتایا یہ جارہا ہے کہ انسانیت کے محسن پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام  نہیں ہیں، یہ نئے ہیروز ہیں، معاشرے میں نئے طبقات کا وجود بنایا گیا۔ اس سے پہلے دانشور یا اہلِ علم کے لیے علماء یا مذہبی لوگ تھے، اس کے بعد ایک نیا طبقہ پیدا ہوا جس نے جرنلزم (Journalism) [صحافت]({ FR 11971 }) کے نام پر نئی چیزیں پیدا کیں۔ میں یہیں رک کر آپ سے یہ عرض بھی کرتا چلوں کہ ظاہری بات ہے کہ جتنی چیزوں کے نام لے رہا ہوں ان تمام چیزوں کے نفع سے ہم بھی استفادہ کررہے ہیں اور ان تمام چیزوں کو باطل محض کہنے کو ہم بھی تیار نہیں ہیں، کیوں کہ یقین مانیے عزیزانِ گرامی! یہ تو اللہ تعالیٰ کا اصول ہے کہ اگر یہ چیزیں باطل محض ہوتیں تو اللہ تعالیٰ اسے باقی نہ رکھتا، باطل کے ہر درے میں نفع کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اسے بقا مل جایا کرتی ہے، لہٰذا ان کی بقا کے ظاہری اسباب موجود رہے، جس سے ہم آج استفادے کو بالکل تیار ہیں، مگر اس کے نتیجے میں کوشش کی گئی کہ نیا انسان تیار کیا جائے۔

نظریۂ ارتقا اور اس کے اثرات کی اثر انگیزی و گہرائی

یہ وہی دور ہے عزیزانِ گرامی! جب مغرب میں ڈارون پیدا ہوا، جس کا آج ہمارے اسکولوں میں ارتقا کا نظریہ پڑھایا جاتا ہے، جو تخلیق کے خلاف نظریہ شروع ہوا کہ انسان حضرت آدم  علیہ السلام  کی اور پیغمبروں کی اولاد نہیں، یہ کوئی منصوبہ بندی سے تخلیق کی گئی مخلوق نہیں، یہ تو جانوروں میں سے ایک جانور ہے، جس نے یہ روپ اختیار کرلیا ہے۔ یہ ایک اور طریقے کا ارتقا ہے، جس میں انسان یہاں کھڑا ہوا ہے اور ارتقا کی حدود اتنی بڑی ہیں۔
عزیزانِ گرامی! اس فتنے کی آپ گہرائی دیکھیے کہ اب یہ بتایا اور سمجھایا جارہا ہے کہ ہم آج تک جو سمجھتے تھے کہ دنیا میں مرد ہوتے ہیں یا عورت ہوتی ہے یا تیسرے کچھ معذور ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آزمائش کی سنت کے نتیجے میں کامل مرد یا کامل عورت نہیں بن پاتے تو وہ معذوروں کی صفت ہے۔ ہم جانتے ہیںکہ انسانوں کے دو ہاتھ ہوتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ بعض انسانوں کے ہاتھ نہیں ہوتے، تو کیا اس کے بعد ہمارا اسٹیٹمنٹ تبدیل ہو جاتا ہے کہ انسانوں کے دو ہاتھ نہیں ہوتے؟ ہم تو یہی مانتے ہیں کہ انسانوں کے دو ہاتھ ہوتے ہیں۔ اگر کسی انسان کا ایک ہاتھ نہیں ہے تو اس کی وجہ سے ہمارا پرانا بنیادی بیانیہ تبدیل نہیں ہوتا کہ انسان کے دو ہاتھ نہیں ہوتے، ہم دو ہاتھ ہی مانتے ہیں، مگر اب انسانیت کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ ابھی تک ہم سمجھتے تھے کہ دنیا میں مرد ہوتے ہیں، عورت ہوتی ہے، یہ ہماری غلط فہمی ہے، یہ بائینری (Binary) نظام ہے، اس سے باہر نکلو، ایک مرد، مرد ہونے کے باوجود مرد نہیں ہوسکتا، ایک عورت، عورت ہونے کے باوجود عورت نہیں ہوسکتی، یہ تصور کہ میاں بیوی اور ماں باپ کی صورت میں انسانیت کا رشتہ چلتا ہے، یہ ہمارا تصور ہے۔ سروگیٹ مدر (Surrogate Mother) ہوسکتی ہیں۔ مرد مرد کے ساتھ مل کر بھی سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے۔ آج تک جو مرد کہلاتا تھا، یہ بالکل جائز ہے کہ وہ مرد چھوڑ کر عورت بن سکتا ہے۔ ہم یہ فتنے دیکھ رہے ہیں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس وقت ارشاد فرمایا تھا کہ آخری زمانے میں تم پر فتنے ٹوٹتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جس طرح کوئی لڑی ٹوٹ جائے گی اور ایک کے بعد ایک دانہ چلا آتا ہے، صبح آدمی مومن ہوگا، شام کو کفر اختیار کرے گا، شام کو مومن ہوگا، صبح کفر اختیار کرلے گا۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحفظِ ختمِ نبوت کا اہتمام

عزیزانِ گرامی! میں شاید اپنی کج بیانی میں اپنی بات سمجھا نہیں پا رہا ہوں، مگر بہت اہمیت کے ساتھ اس بات پر غور فرمائیے کہ ختمِ نبوت کے سلسلے میں جو محنتیں کی جارہی ہیں، نبوت ہماری حفاظت کی محتاج نہیں ہے، ختمِ نبوت ہماری محتاج نہیں ہے۔حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو اس وقت بچانے والے نے بچالیا تھا جب مکہ مکرمہ کے اندر مختلف قبیلوں کے سو آدمی حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے گھر کے باہر کھڑے ہوئے تھے اور چچازاد بھائی حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بستر پر لٹاکر چپکے سے نکل پڑے اور وہی مکہ جہاں جب آٹھ سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  موجود تھے تو آپ کا مرتبہ یہ تھا کہ ان کے دادا حضرت عبدالمطلب آپ کا تخت خانہ کعبہ کے ساتھ لگایا کرتے تھے، وہ مکہ کی سرزمین آپ کے خون کی پیاسی ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو جب پہلی بار حضرت ورقہ بن نوفلؓ نے کہا تھا کہ زمانہ آئے گا جب آپ کو مکہ سے نکال دیا جائے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حسرت سے فرمایا: ’’أوَمُخْرِجِیَّ ھُمْ؟‘‘ کیا یہ وقت آئے گا کہ مجھے مکہ سے نکال دیا جائے گا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خانہ کعبہ سے اس طرح رخصتی اختیار کی کہ مڑ مڑ کے دیکھتے تھے اور کہتے تھے کہ اے خانہ کعبہ! تو مجھے بہت عزیز ہے، اگر یہ لوگ مجھ پر زبردستی نہ کرتے تو میں تجھے کبھی چھوڑ کر نہ جاتا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا: 
’’إِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْآنَ لَرَادُّکَ إِلَی مَعَادٍ۔‘‘  (القصص:۸۵) 
ترجمہ: ’’ جس خدا نے آپ پر قرآن (کے احکام پر عمل اور اس کی تبلیغ) کو فرض کیا ہے، وہ آپ کو (آپ کے اصلی) وطن یعنی (مکہ) میں پھر پہنچائے گا ۔‘‘              (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اس وقت اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا: 
’’أَوَلَمْ یَرَوْا أَنَّا نَأْتِیْ الْأَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ أَطْرَافِہَا وَاللہُ یَحْکُمُ لاَ مُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖ وَہُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ۔‘‘  (الرعد:۱۴) 
ترجمہ: ’’ کیا اس امر کو نہیں دیکھ رہے کہ ہم زمین کو ہر چہار طرف سے برابر کم کرتے چلے آتے ہیں اور اللہ (جو چاہتا ہے) حکم کرتا ہے، اس کے حکم کو کوئی ہٹانے والا نہیں اور وہ بڑی جلدی حساب لینے والا ہے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
ہم مکہ کی زمین ان کے پاؤں کے نیچے سے کھینچ لیں گے، یہ مکہ میں ہونے کے باوجود مکہ کے اندر اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کریں گے۔ صرف چھ سال بعد معاملہ ہوا کہ جب ایک موقع پر صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی ہوگئی تو ابوسفیانؓ دوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئے کہ ہم اس معاہدے کو ہر قیمت پر باقی رکھنا چاہتے ہیں، وہ موقع تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کیا، وہ آخر کار مجبور ہوکر کہہ گئے کہ ہماری طرف سے معاہدہ باقی ہے۔ مکہ میں رہنے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے جانے کے بعد مکہ اُن کا نہیں رہا۔ 
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فیصلے ہیں، ختمِ نبوت کی صورت میں یہ دعوت کا اہتمام ہے، ایسا نہیں ہے کہ نعوذ باللہ من ذٰلک! نبوت خطرے کا شکار ہوگئی ہے، نبوت کو اب انسانوں کی حفاظت کی ضرورت پیش آگئی ہے، یہ فیصلے تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت کردئیے تھے کہ:
 ’’لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ أَوْ یَتُوْبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ‘‘ (آل عمران:۱۲۸) 
ترجمہ: ’’ آپ کو کوئی دخل نہیں (یہاں تک کہ خدا تعالیٰ ) ان پر یا تو متوجہ ہوجاویں یا ان کو کوئی سزادے دیں، کیونکہ وہ ظلم بھی بڑا کررہے ہیں ۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
یعنی یہ فیصلہ کردیا گیا کہ آپ نہیں کھڑے ہوئے، آپ کی موجودگی میں اللہ کھڑا ہوا ہے۔ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ آپ کی نبوت کو کس درجے تک پہنچانا ہے! کب آپ کی واپسی کا فیصلہ فرمانا ہے! آپ کے لیے ابھی کس معرکے میں فتح کا فیصلہ کرنا ہے! مگر ختمِ نبوت کی صورت میں جو دعوت دی جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اس کو سمجھیں کہ نبوت کے خلاف شیطانی حملے کس طاقت کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔ یہ معمولی سی چیز تھی، مرزا زندہ رہتا تو شریف آدمی اس کو اپنی بیٹیاں دینے سے انکار کر دیتے، ایک آدمی کردار کی اس نحوست پر پہنچا ہوا ہو کہ اس کے اپنے لوگ اس سے بدظن ہونا شروع ہوجائیں، جو آدمی اپنے کردار میں کمزور ہو اس کو آج اس اہتمام کے ساتھ دنیا کیوں سپورٹ کرنے کو تیار ہوگئی ہے؟ کیوں ان کو مظلوم بنا کے دنیا کے سامنے پیش کیا جارہا ہے؟

ختمِ نبوت اور دیگر دینی اصطلاحات میں تحریف کا نیا حربہ

عزیزانِ گرامی! یہ چیز یہاں رکے گی نہیں، میں نے آپ سے عرض کیا کہ ہر چیز آپ سے چھین لی جائے گی، نبوت کے نام سے آیا ہوا ہر علم چھین لیا جائے گا۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ’’خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ‘‘ کی تفسیر میں علماء ایک موقف رکھ رہے ہیں اور دوسرا گروہ الگ موقف رکھ رہا ہے اور یہ علمی اکیڈمک نالج (Academic Knowledge) ہے جس میں آپ بحث کریں کہ غالب کے شعر کا مطلب یہ ہے یا وہ ہے۔ یہ بحث کروانا مقصود ہے، اسٹریکچرازم (Structuralism)  کی صورت میں لینگویجز (Languages) کے اندر ایسے فلسفے بیان کیے جاچکے ہیں کہ زبان سے حاصل ہونے والا علم یقینی نہیں ہوتا، آپ کے بچے اگر او لیول یا اے لیول پڑھتے ہوں گے اور اپنی ہسٹری کو جانتے ہوں گے تو لینگویجز (Languages) کی ان باتوں سے واقف ہوں گے۔ دریدا کی صورت میں ایسے مفکر مغرب میں ہیں، بتایا جارہا ہے کہ لفظ سے جو معنی پیدا ہوتا ہے، وہ معنی ہونا ضروری نہیں ہے، تاکہ اس کے بعد آپ قرآن پڑھیں ، مگر اس اعتماد سے محروم ہوجائیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کیا کہہ رہا ہے، یہ سمجھنا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ آپ ریاست کو دیکھیں، کہا گیا کہ اسٹیٹ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کہ آپ مسلمان ہیں یا آپ غیر مسلم ہیں؟ اسٹیٹ لوگوں کی دیگر چیزوں کا تحفظ تو کرے گی، لیکن پیغمبر کے تحفظ سے دستبردار ہوجائے گی۔ انسانوں کو اس معاملے میں بے حس بنادیا جائے اور یہ استدلال قائم کیا جائے کہ پیغمبروں کی عصمت کیا چیز ہوتی ہے؟ وہ تو چلے گئے، انسان ہیں، عصمت تو موجودہ انسانوں کی ہوتی ہے، مجھے کوئی آدمی گالی دے، یہ تو مسئلہ ہے اور میرا رائٹ (Right) ہے کہ میں اس پر بحث کروں، لیکن پیغمبر تو اس سے بالاتر ہوتے ہیں۔

عصمتِ انبیاء اور مذہبی اَساس کے بارے میں اختلافِ آراء کی ترویج کا فتنہ

عزیزانِ گرامی! یہ ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ میں آپ کے سامنے کوئی ہیپو تھیسز (Hypothesis) [مفروضہ] کھڑا کررہا ہوں، آپ کے سامنے کوئی ایسی صورت اختیار کررہا ہوں، بلکہ ہمارے سامنے وہ جگہ ہے، ایسی دنیا ہے جہاں ظاہری لحاظ سےپیغمبر اپنی اس عظمت سے محروم کیے جاچکے ہیں ، پیغمبروں کے خلاف کھلے عام گفتگو کی جاتی ہے، اس طرح کی ہوش ربا چیزیں حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  کے بارہ میں بکی گئی ہیں جن کا ہم یارا نہیں کرسکتے، ہم انہیں بیان کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ بات پھر پیغمبروں کی عظمت پہ نہیں رکے گی، اسٹیٹ پر آئے گی، پھر اس کے بعد اُمت کا تصور کیسے ہے؟ یہ کیا بات ہے کہ آپ میں سے کئی لوگ دہلی کی برادری کے ہیں، ہمارے خانوادے کا تعلق سیّد ہونے کے باوجود پشتون علاقوں سے تھا، یہاں کے کچھ لوگ پنجاب کے لوگوں میں سے ہیں، یہاں کچھ لوگ اور نسل میں سے ہیں، مگر ہمیں ایک ہی نسبت جوڑ دیتی ہے کہ محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو مانتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ اس کی کیا ضرورت ہے؟ نئی پہچانیں بنائی جائیں، گلوبلائزیشن (Globalization) کا دور ہے۔ یہ بات کہ پیغمبروں کی بنیاد پر، مذہب کی بنیاد پر ایک اَساس قائم کی جائے، یہ تفرقے کا باعث ہے۔ معاشرہ پرولر(prowler) ہو، ایک سے زیادہ آراء برداشت کی جائیں، بتایا جائے کہ عقیدہ کا مسئلہ اہم مسئلہ نہیں ہوتا۔ میں اگر یہ کہوں کہ زمین میں گریویٹی (Gravity) [کششِ ثقل]کی صلاحیت نہیں ہے اور میرے پاؤں کے نیچے یہاں کوئی گریویٹی نہیں ہے تو مجھے منہ پہ کہا جائے گا کہ احمق آدمی! تمہیں یہ نہیں پتا؟ تم گریویٹی کا انکار کرتے ہو؟ عقیدے کے نام پر سائنس کی ایک اور دنیا قائم کردی گئی ہے کہ اگر میں گریویٹی کونہیں جانتا تو بولیں گے کہ یہ دیکھو بھئی مولوی صاحب کو گریویٹی نہیں پتا، ان کو کشش ثقل نہیں پتا۔ میں اگر زمین کے گول ہونے کا انکار کردوں تو بچے مذاق اُڑائیں گے کہ یہ کیا بات کررہے ہیں؟ آپ کو یہ نہیں پتا، ہم تو دیکھ چکے ہیں، مگر کوئی یہ کہہ دے کہ محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  آخری پیغمبر نہیں ہیں، آپ کے بعد نبوت چل سکتی ہے، کوئی ظلی یا بروزی آسکتا ہے تو کہا جائے گا کہ یہ ایک علمی مسئلہ ہے، یہ تو اختلاف ہے، یہاں تو ایک سے زائد آراء ہیں، یہاں تو گفتگو کی جاسکتی ہے۔

نظریۂ ڈارون اور اس کے خوف ناک نتائج

عزیزانِ گرامی! یہ سیلاب آیا تو کچھ نہیں بچے گا، یہ بات بھی نہیں بچے گی کہ ہم انسانوں کی اولاد ہیں۔ یہ واقعہ نہیں ہے، یہ لوگ اس بات کو اب کہتے نہیں ہیں اور آپ پوچھیں تو مانتے ہیں کہ ارتقا طے شدہ بات ہے، ہوموسیپین (Homo Sapiens ) [بندر] ہزاروں سال پہلے آئے تھے اور ان کی تصویریں بھی آچکی ہیں، ہم تو ان بندروں کی نسلوں میں سے آئے تھے۔ ہم ہوموسیپین کی اولاد ہیں، اس سے پہلے ہوموسیپین کا دور تھا، ایک نئے دور میں ہم آئے ہیں، ابھی اس دور میں ہم انسانوں کو اس روپ میں دیکھ رہے ہیں، ورنہ اس سے پہلے انسانوں کی دُمیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ یہ مذاق نہیں ہے، یہ کالجوں یونیورسٹیوں میں پڑھا پڑھایا جارہا ہے۔ یہی بات جو جنگ تھی کہ ایک اللہ کا آوازہ ماننا ہے یا آزادی مانگنا ہے؟ شیطان نے یہ بات کہی کہ میں تسلیم نہیں کرتا، میں لوگوں کو بلاؤں گا کہ یہ رستہ اختیار کرو۔
عزیزانِ گرامی! اس کا خوفناک نتیجہ یہ ہوگا جو یورپ میں نظر آرہا ہے۔ آپ کا بیٹا ہوگا، آپ اسے بیٹا کہہ رہے ہوں گے، بیس بائیس سال کی عمر میں آپ کا خیال یہ ہوگا کہ وہ بیٹا بہو لے کر آئے گا، پتا چلے گا کہ وہ کسی اور مرد کو لے کر آجائے گااور کہے گا کہ ابو! یہ ریئیلٹی (Reality) ہے۔ اچھا دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ مرد ہونے سے انکار نہیں کرے گا، مانے گا کہ میں مرد ہوں، مگر میرے جذبات اس طرح کے نہیں ہیں کہ میں شادی کرسکوں۔ نبوت کے خلاف جنگ اللہ کے خلاف جنگ ہے، نبوت کی عصمت نہ ماننے کے نتیجے میں کائنات یوں نہیں رہے گی، یہ روز و شب کے مسائل ہیں جو ہمیں مغرب میں نظر آرہے ہیں۔ ہاں! اس کے مقابلے میں ان کے پاس چیزیں ہیں، گاڑیاں اور جہاز ہیں، ان کا معاشی اسٹیٹس ہے، لوگوں کے پاس ضروریاتِ زندگی کی فراوانی ہے، بے شمار چیزیں ہیں۔ یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ نظام ہے، اسی غربت کی چکی میں پستے رہوگے؟ انہی بحثوں میں پڑے رہوگے کہ بس مرد اور عورت ہی ہوتے ہیں؟ یہ تفریق کرتے رہوگے؟ یہ جھگڑے کرتے رہوگے کہ آخری نبی گزرگئے؟ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا؟ یہی بات مانتے رہوگے کہ قرآن کریم کی تفسیر حتمی ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد صرف قرآن ہی نہیں پہنچا، بلکہ قرآن کے معانی بھی پہنچے؟ سنت کو حتمی مانتے رہو گے؟

اُمت کی متفقہ اصطلاحات میں تحریف

مرزائیت کی صورت میں عالم اسلام پر جو حملہ ہوا، جو صورت حال ہوئی، یہ اس کی جڑوں پر کیے گئے حملے کی ایک بڑی صورت تھی۔ ان کو پتا تھا، یہ بات طے تھی کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ عالم اسلام مرزا کو نبی مان لے گا، مگر یہ باور کروایا جائے کہ نبوت ایک ایسی چیز ہے جس کے دیگر دعوے دار ہوسکتے ہیں، یہ جو اصطلاح آپ نے آج تک صحابی کی سن رکھی ہے، انہوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ اصطلاح ایسی نہیں ہے جو دائمی ہے اور انہی تک ہے، صحابی نعوذ باللہ من ذلک! دوبارہ بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ واقعہ ہے کہ اس (مرزا قادیانی) نے اپنے لوگوں کو صحابی کہا، واقعہ یہ ہے کہ اس نے اپنی بیویوں کا اسٹیٹس ازواج مطہرات کا رکھا، واقعہ یہ ہے کہ جنت البقیع کے مقابلے میں ایک بہشتی مقبرہ بنایا گیا ۔ آپ یہ دیکھ رہے ہیں، کچھ دیر بعد مغرب یہ کہے گا کہ مسلمانوں کے نمائندے کون؟ یہ مسلمان یا احمدی! ان کے نمائندے تو احمدی بھی ہیں، جنہیں وہ احمدی کہتے ہیں، ہم قادیانی کہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ یہ ناموں کی بحث نہیں ہے، یہ لفظوں کی بحث نہیں ہے، ہمیں کہا جائے گا کہ اس ساری تہذیب سے ہاتھ دھو بیٹھو۔ اس معرکے میں آخری زمانے کا آخری مرحلہ شروع ہورہا ہے۔

تحفظِ ختمِ نبوت دین کے ہر شعبے کا تحفظ ہے

عزیزانِ گرامی! ہمارے پاس وقت تھوڑا ہے اور آپشن کوئی نہیں ہے، اپنے آپ کو نبوت کے ساتھ، نبوت کی حفاظت کے ساتھ، ختم نبوت کے ساتھ وابستہ کریں۔ اس کو بنیاد بناکر اُمت کے ہر شعبے کا تحفظ کریں۔ کیا وجہ ہے کہ علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے برصغیر پاک و ہند کے اندر اُس وقت کے سیاسی معرکہ میں دخل نہیں دیا، مگر مرزائیت کی بات سننے کے بعد ان جیسے علمی آدمی کی بھی راتوں کی نیندیں اُڑ گئیں۔ ان کو احساس ہوا کہ اس کے بعد تو مذاق شروع ہوجائے گا۔
حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  تشریف لائیں گے، دجال کے خاتمے کا معرکہ شروع ہوگا، اور یہ آدمی یہاں تک کھڑا ہوگیا کہ جس مسیح  علیہ السلام  کو امت مان رہی ہے وہ مسیح کب آئے گا؟ وہ تو مثیل مسیح کو آنا تھا، وہ مسیح  علیہ السلام  تو انتقال کرگئے۔ وہ مینارہ کہاں بعد میں بننا تھا، وہ مینارہ آج ہی بن جائے، میں بنادیتا ہوں مینارہ، تاکہ امت کے ذہن میں شکوک و شبہات کا شور برپا کردیا جائے۔ دیکھیے! شیطان کیا کرتا ہے، شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار جو خود قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے، وسوسہ ہے۔ ہم سورۃ الناس میں پڑھتے ہیں: 
’’قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِکِ النَّاسِ  إِلٰہِ النَّاسِ  مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ‘‘ (الناس:۱-۶)
ترجمہ: ’’ آپ کہیے کہ میں آدمیوں کے مالک، آدمیوں کے بادشاہ، آدمیوں کے معبود کی پناہ لیتا ہوں، وسوسہ ڈالنے پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کے شر سے، جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، خواہ (وسوسہ ڈالنے والا) جن ہو یا آدمی (ہو) ۔‘‘        (ترجمہ حضرت تھانویؒ)
یعنی لوگوں کے ذہن میں اُلجھاؤ اور وسوسہ پیدا کردو، اسی کو قرآن نے کہا کہ یہ بھی ایک طرح کی وحی چلتی ہے، دماغ میں خیالات بنُے جاتے ہیں، دماغ میں جالے بُن دئیے جاتے ہیں، ہر چیز جسے مانا جا رہا ہے اس میں شکوک و شبہات پیدا کردئیے جائیں، یہ خیال کیا جائے کہ ساری حقیقتیں ایسی نہیں ہوتیں، بلکہ کوئی حقیقت ایسی نہیں ہوتی جس کو مانا جائے اور جو ہمیشہ کے لیے ہو۔ چیزیں تبدیل ہوتی ہیں، خیالات تبدیل ہوتے ہیں۔ مرزائیت کی صورت میں یہ حملہ ہوا، اکابرین نے اس کے مقابلہ میں یہ محنت اس اَساس پر اُٹھائی کہ امت کے ان عقائد، اس علمیت، اس نظریے اور اس نظام کا تحفظ کیا جائے۔ 

تحفظِ ختمِ نبوت کا درست طریقہ

عزیزانِ گرامی! اور اکابرین کا یہ کمال ہے کہ اس محنت میں نہ گالی کا راستہ اختیار کیا اور نہ گولی کا۔ یہاں میں یہ عرض کرتا چلوں کہ شیطان نے جنگ شروع کی تھی، اس نے کہا کہ بھڑکاؤں گا، اللہ نے فرمایا کہ: میں نیک بندے بھیجوں گا، اگر اللہ بند کرنا چاہتے تو شیطانی سلسلے کو ہی ختم کردیتے، اسی وقت شیطان کے مردود ہونے کا فیصلہ ہوتا تو ایک حکم آتا اور شیطان نیست و نابود ہوجاتا، مگر معرکے میں صحیح آواز اُٹھائی گئی، پیغمبر بھیجے گئے، اسی پیغمبروں کی رہنمائی کے مطابق ہمارے اکابر نے یہ سلسلہ شروع کیا، جب یہ معرکہ ہمارا نہیں ہے تو اس میں طریقہ کار بھی ہمارا نہیں ہوسکتا، ورنہ ہم ان کے خلاف پرسیکوشن (جبر کا راستہ) اختیار کرنا چاہتے تو ہمارے لیے پاکستان کی حد تک کیا مشکل تھا؟ یہ معرکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہے، یہ جنگ بھی انہی صورتوں میں اختیار کی جائے گی، جن صورتوں میں پیغمبر کے ذریعے اللہ اپنی جنگیں باقی رکھتا ہے۔

انسانی تہذیب کا آخری دوراور ہمارا آخری سہارا
 

لہٰذا عزیزانِ گرامی! یہ جو صورت حال چل رہی ہے، جس میں ہم گرفتار ہیں، یہ وبا ہمارے گھر میں ہے، لوگ اس بات میں پریشان ہیں اور پریشان ہونا چاہیے کہ کلائمیٹ چینج (Climate Change) [موسمیاتی تبدیلی] وقوع پذیر ہے، صورت حال یہ ہے کہ دریا اپنا رخ بدل رہے ہیں، گلیشیئر پگھل رہے ہیں۔ دجالی تہذیب یادجال کا یہ معاملہ ہوتا ہے کہ وہ ایک آنکھ سے کانا ہوتا ہے، یہ خوف تو بتایا جارہا ہے، مگر کوئی یہ سمجھا نہیں رہا کہ اگر یہ واقع میں کلائمیٹ چینج ہے، لوگ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ یہ انسانی تہذیب کا آخری دور ہے، انسان کی اس دنیا میں بقا نہیں رہے گی، یہ تو سوچ رہے ہیں کہ یہ دنیا ختم ہوجائے گی، یہ سوچ نہیں رہے کہ پھر اس کے بعد اس دنیا میں دیگر چیزیں کیوں ختم ہورہی ہیں؟ دوسراکیا فلسفہ متوجہ کررہا ہے؟ اگر قربِ قیامت کا وقت ہے تو ہمیں کس معرکے میں شامل ہونا ہے؟ ہم نے اپنی کن اَساسات کو قائم رکھنا ہے؟ اگر دنیا ختم ہی ہونی ہے اور دنیا اگر ہمارے لیے ختم ہو گی تو نئی بات تو نہیں ہوگی، ہم سے پہلے تو قیامت آگئی، دنیا آج کے انسانوں کی ختم ہو جائے گی تو کوئی نئی بات نہیں ہے، دنیا سے جو پہلے چلے گئے ان کی قیامت ہوگئی، وہ تو دنیا سے چلے گئے تھے۔ ہمارے لیے احساس کی بات یہ ہے کہ ہم اپنی اس دعوت، اس ختمِ نبوت سے جڑیں، یہ ہماری آخری پناہ گاہ ہے، یہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی اَساسات واپس لائیں، ختمِ نبوت کا عنوان ہوگا جس کی بنیاد پر امت میں آپ گلوبلائزیشن کے نام سے نئی نئی شناختوں سے بچ سکیں گے۔ نبوت ہمیں وہ مرکز فراہم کرے گی کہ ہمارا خاندانی نظام بچے گا اور ہم مرد و عورت کی شناخت میں جی سکیں گے، ورنہ ہمیں بتایا جائے گاکہ یہ تصور غلط ہے کہ بہن و بھائی ہوتے ہیں، یہاں بہت سی اور چیزیں ہوتی ہیں،جیسے ایل. جی. بی. ٹی (L.G.B.T)، اس میں شناختیں الگ الگ ہیں، بتایا جائے گا کہ حکومتوں کا تعلق مذہبی بحثوں سے نہیں ہوتا، مذہب کے فروغ کے لیے حکومتیں استعمال نہیں کی جاسکتیں۔ بتایا جائے گا کہ زبان کے اوپر اعتماد نہیں کریں، قرآن پڑھیں بس جس طرح کتاب پڑھتے ہیں، اس سے آنے والا معنی ضروری نہیں ہے کہ ہم تک صحیح پہنچے، اس سے زیادہ کئی آراء ہوسکتی ہیں۔ ہم انسان ہونے کے باوجود آخر میں اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے۔

تحفظِ ختمِ نبوت دین کی بنیادو اَساس ہے

یہی بات آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمائی کہ ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا، میں اب آخری نبی ہوں اور تم آخری اُمت ہو، تمہیں آخر تک اس دجال کے مقابلے میں کھڑا ہونا ہے ، اس دجل کے مقابلے میں کھڑے ہوکر حقیقی بات جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی بات ہے، جو نبوت کے سلسلے میں پیغام چل رہا ہے، جو وحیِ الٰہی کی صورت میں روشنی آرہی ہے، اس کے ساتھ خود کو وابستہ کرنا ہے، جو لوگ اس میں دن رات کاوشیں کررہے ہیں، حضرت مولانا مفتی خالد محمود، حضرت مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ، حضرت مولانا قاضی احسان احمد، ان کے علاوہ کتنے اکابرین ہیں جو اپنی زندگیاں صرف کرکے نوجوانوں میں احساس دلارہے ہیں۔ یقین مانیے کہ یہ کسی جماعت کی طرف بلانا نہیں ہے، یہ کسی ادارے کی طرف بلانا بھی نہیں ہے، یہ اُمت کو اس کی بنیادی اساس سے وابستہ کرنا ہے، امت کو اس پر جاگتے رہنے پر مجبور کرنا ہے، تاکہ جو بات حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  نے فرمائی تھی: ’’مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ‘‘ (الصف:۴۱) یعنی’’اس معرکے میں میرا مددگار کون ہوگا؟‘‘ یہی دعا ہے جو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اُمت کو دی:
 ’’اَللّٰہُمَّ انْصُرْ مَنْ نَصَرَ دِیْنَ مُحَمَّدٍ ﷺ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَ دِیْنَ مُحَمَّدٍﷺ۔‘‘ 
’’یااللہ! تو اس کی مدد فرما جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے دین کی مدد فرماتا ہے اور اس کو رسوا کردے جو دین کی رسوائی میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔‘‘
 میری بھی دعا ہے آپ کے لیے بھی، اپنے لیے بھی اور سارے گھر والوں کے لیے کہ اس معرکے میں جو ہمیں وحیِ الٰہی سے کاٹنے کے لیے کیا جارہا ہے، جو ہمارا رشتہ اس پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  سے کاٹنے کے لیے کیا جارہا ہے، اللہ تعالیٰ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی محبت کے صدقے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ دنیا میں بھی وابستہ فرمائے اور اسی محبت کے صدقے میں جنت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی معیت نصیب فرمائے، آمین
 

وآخردعوانا أن الحمد للہ رب العالمین!
وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد و علٰی آلہٖ و صحبہٖ أجمعین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *